نئی دہلی۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چند قریبی فیصلے جوکہ ہندوستان کے خلاف ہوئے ہیں، اس پر ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے چند موجودہ اور سابق کھلاڑیوں نے بی سی سی آئی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈیسیشن ریویو سسٹم (ڈی آر ایس) کی ٹیکنالوجی کو قبول کریں یا ٹیم کے ناقص مظاہروں کو برداشت کریں۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہیندر سنگھ دھونی کے بموجب آسٹریلیا کے خلاف منعقدہ ابتدائی دو ٹسٹ مقابلوں میں کم از کم پانچ فیصلے ہندوستانی ٹیم کے خلاف دیئے گئے ہیں جس سے سیریز میں ہندوستانی ٹیم کے حالات مشکل ہوئے ہیں، لیکن ان کا ماننا ہے کہ ڈی آر ایس نظام کو استعمال کرنے کے باوجود مہمان ٹیم کے لئے بہت زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ ہندوستانی ٹیم کے کپتان مہیندر سنگھ دھونی کے خیالات کے برعکس ٹیم کے آف اسپنر ہربھجن سنگھ نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان ڈی آر ایس کو قبول کرلے اور یہ ٹیکنالوجی جس حالات میں دستیاب ہے، اسے قبول کرنے کا کچھ تو ٹیم کو فائدہ ہوگا۔
ہربھجن سنگھ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ڈی آر ایس کو قبول کرلیں جس کا ٹیم کو فائدہ ہی ہوگا جیسا کہ اگر آپ آسٹریلیا کے خلاف منعقدہ دو ٹسٹ مقابلوں کا جائزہ لیں گے تو پتہ چلے گا کہ مقابلوں کے دوران ہندوستانی ٹیم مسابقتی مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن امپائروں کے چند فیصلے ٹیم کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوئے۔ ہربھجن سنگھ نے چار فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ٹسٹ کی دوسری اننگز میں شکھر دھون کا وکٹوں کے پیچھے کیچ پکڑنا، دوسرے ٹسٹ کی پہلی اننگز میں چیٹیشور پجارا کا وکٹوں کے پیچھے کیچ، پھر اس کے بعد دوسری اننگز میں روہت شرما اور روی چندرن اشون کو آؤٹ دینے کے فیصلے غلط تھے جس کا ساتھی کھلاڑی کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ان حالات میں اگر ڈی آر ایس موجود ہوتا تو نتائج کچھ اور ہوتے۔ ہندوستانی ٹیم کے ایک کامیاب ترین سابق کپتان محمد اظہرالدین نے ڈی آر ایس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک مرتبہ آئی سی سی نے ڈی آر ایس کو منظور کردیا ہے تو پھر بی سی سی آئی کی جانب سے اسے نظرانداز کرنے کا جواز پیش نہیں کیا جانا چاہئے۔ 99 ٹسٹ مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے اظہرالدین نے کہا کہ جب کرکٹ کھیلنے والے دیگر ممالک ڈی آر ایس کو قبول کررہے ہیں تو پھر ہندوستان کو بھی اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اظہرالدین کا کہنا ہے کہ جب میدان پر موجود امپائر رن آؤٹ کے آسان فیصلے میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں تو پھر دوسرے فیصلوں کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیوں نہیں کیا جاتا۔
دریں اثناء حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک اور بیٹسمین وی وی ایس لکشمن نے فوری طور پر ڈی آر ایس کو قبول کرنے کی حمایت نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ ہاٹ اسپاٹ اور ہاک آئی صد فیصد صحیح نتائج فراہم کرتے ہیں لہذا میں ڈی آر ایس ٹیکنالوجی کی حمایت نہیں کرتا لیکن جو ٹیکنالوجی ہمیں صد فیصد نتائج فراہم کرے اسے قبول کیا جانا چاہئے۔ لکشمن نے کہا کہ وہ ڈی آر ایس کے مخالف نہیں ہیں لیکن جو نظام تکنیکی اعتبار سے صد فیصد نتائج فراہم نہیں کرتا ، وہ ناقابل قبول ہے۔ دوسری جانب ہربھجن سنگھ نے کہا کہ اگر ڈی آر ایس 90 فیصد بھی صحیح نتائج فراہم کررہا ہے تو پھر اس کا استعمال ہونا چاہئے کیونکہ اگر ابتدائی دو ٹسٹ مقابلوں میں 90 فیصد صحیح نتائج فراہم کرنے والا نظام استعمال ہوتا تو ہندوستان کا موقف مزید طاقتور ہوتا۔بی سی سی آئی کو مشورہ دینے والوں میں ایراپلی پرسنا ، چیتن چوہان ، اجیت واڈیکر اور دیگر اہم نام شامل ہیں۔