نظام آباد:17؍ مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ٹی آرایس اور بی جے پی کے درمیان ہوئے معاہدہ کے خلاف کانگریس پارٹی کی جانب سے جدوجہد کا آغاز کیا گیا ہے اور یہ جدوجہد راہول گاندھی کی بھروسہ یاترا سے شروع کی گئی ۔ ان خیالات کا اظہار کل ہند کانگریس کے ترجمان سابق رکن پارلیمنٹ نظام آباد مسٹر مدھوگوڑ یاشکی نے کانگریس بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آرایس حکومت مرکزی بی جے پی حکومت سے ہاتھ ملائی ہے اور یہ خفیہ طور پر معاہدہ ہوا ہے جس کی وجہ سے نظام آباد کی رکن پارلیمنٹ کے کویتا، مرکزی وزیر اوما بھارتی کو نظا م آباد کے کنداکرتی پشکرالو میں شرکت کرنے کی دعوت دی ہے۔ جبکہ یہ کنداکرتی آرایس ایس کے سربراہ ہگڈیوار کا آبائی وطن ہے۔ اوما بھارتی کے دورہ کی دعوت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کی فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش کی یہ سازش ہے۔ راہول گاندھی کی یاترا سے عوام میں زبردست جوش و خروش پایا گیا۔ کانگریس کے دور حکومت میں جئے جوان جئے کسان کا نعرہ بلند کیا گیا تو مودی کی حکومت میں مر کسان مر جوان کا نعرہ بلند کیا جارہا ہے ۔ نریندر مودی اور ٹی آرایس کی حکومت میں ایک بھی کسان کو فائدہ نہیں پہنچایاگیا۔ 14 ریاستوں میں ژالہ باری اور غیر موسمی بارش کی وجہ سے 200لاکھ ہیکٹر فصل کو نقصان ہوا۔ بی جے پی کی ریاستوں میں 800 سے زائد کسانوں کی اموات ہوئی اور ان کسانوں کے افراد خاندان سے اظہار تعزیت کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس کے برخلاف کسان کی خودکشی پر طرح طرح کے باتیں کہی جارہی ہیں۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد 900 کسانوں کی اموات ہوئی ہیں اور ان اموات کے ذمہ دار کانگریس ہے کہتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ خودکشی کرنے والے کسانوں کی اموات پر امدادی کام افراد خاندان کو پرُ سہ دینے کے بجائے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسٹر مدھوگوڑ یاشکی نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ میں ایک بھی اموات نہ ہونے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے برخلاف کام کیا جارہا ہے ۔ وزیر آبپاشی مسٹر ہریش رائو نے دھان کی خریدی کے بعد 72 گھنٹے میں کسانوں کے کھاتہ میں روپیوں کو جمع کرنے کا اعلان کیا تھا 15روز کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی اب تک ایک روپیہ میں بھی جمع نہیں کیا گیا۔ ان کے آبائی ضلع میدک میں سب سے زیادہ کسانوںکی خودکشی کی اموات ہوئی ہے۔ راہول گاندھی نے خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان کو پرُ سہ دیتے ہوئے انہیں مالی امداد بھی پہنچایا۔ نرمل کے دورہ کے موقع پر راہول گاندھی کا عوام نے جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیااور اس سے ٹی آرایس حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ مسٹر مدھوگوڑ یاشکی نے مشن کاکتیہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کاکتیہ کی حیثیت سے اس اسکیم کو انجام دیاجارہا ہے اور 5 فیصد کمیشن حاصل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کے کلکٹرس، ایس پیز پر حکومت کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس کارکنوں پر مقدمات درج کرنے اور ہراسانی کیخلاف انتباہ دیا۔ اور ان حرکتوں کیخلاف جدوجہد کرنے کا اعلان کیا اس موقع پر صدر ضلع کانگریس طاہر بن حمدان، کانگریس پارٹی کے ترجمان مہیش کمار گوڑ، سابق صدر ضلع کانگریس جی گنگادھر، صدر تلنگانہ مہیلا کانگریس آکولہ للیتا، ایم اے قدوس کارپوریٹر کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔