بنگلورو۔/21مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی نے آج حکومت کرناٹک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دیانتدار آئی اے ایس آفیسر کی پراسرار حالت میں موت کیس میں اس نے اوچھی حرکتیں کی ہیں کیونکہ یہ رپورٹس آئی ہیں کہ آئی اے ایس آفیسر نے اپنی موت کے دن اپنی ہم جماعت خاتون کو 44مرتبہ نہیں بلکہ صرف ایک بار ٹیلی فون کیا تھا۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر سریش کمار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حکومت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی بھی شخص بالخصوص جو فوت ہوگئے ہیں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ کردار کشی کا محکمہ نہ بن جائے۔ انہوں نے قبل ازیں سدا رامیا کے اس بیان پر سوال کھڑا کردیا کہ آئی اے ایس آفیسر ڈی کے روی نے اپنی ہم جماعت خاتون آئی اے ایس عہدیدار کو 44مرتبہ ٹیلی فون کئے تھے، لیکن حال ہی میں ایک اخبار میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ روی نے 44مرتبہ ٹیلی فون نہیں کیا تھا جیسا کہ قبل ازیں اطلاع دی گئی تھی۔ انہوں نے صرف ایک مرتبہ سیل فون پر ربط قائم کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ متوفی اور اور برسر خدمت خاتون آفیسر کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی کون کرے گا۔ واضح رہے کہ آئے ای ایس آفیسر روی کی نعش 16مارچ کو ان کے اپارٹمنٹ کی چھت سے لٹکی ہوئی پائی گئی اور ان کی موت ہنوز ایک معمہ بنی ہوئی ہے جبکہ چیف منسٹر سدا رامیا نے کانگریس ہائی کمان کی مداخلت کے بعد کیس کی تحقیقات سی پی آئی کے حوالے کردی ہے۔