10 حلقوں میں تین بجے سہ پہر اور 8 حلقوں میں پانچ بجے شام تک پولنگ ۔ ماویسٹوں کے ساتھ انکاونٹر میں دو نکسلائیٹس ہلاک
رائے پور 12 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں آج 18 اسمبلی حلقوں کیلئے 70 فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ ابتداء میں کئی حلقوںمیں رائے دہی کا آغاز سست رفتار رہا تاہم بعد میں اس میں تیزی آتی گئی ۔ کہا گیا ہے کہ بستر ڈویژن کے نو اسمبلی حلقوں میں اور راج نند گاوں ضلع کے ایک حلقہ میں رائے دہی کا صبح 7 بجے آغاز ہوا جبکہ دوسرے حلقوں میں صبح 8 بجے سے پولنگ شروع ہوئی ۔ کہا گیا ہے کہ ان حلقوں میں تین بجے سہ پہر تک ہی 65 فیصد ووٹ ؛الے گئے تھے ۔ جملہ 10 حلقوں میں رائے دہی کو تین بجے دن ختم کردیا گیا ۔ اس کا پہلے ہی اعلان کردیا گیا تھا ۔ جن 10 حلقوں میں پولنگ 3 بجے دن ختم ہوئی ان میں محلہ ۔ مانپور ‘ انتا گڑھ ‘ بھانوپرتاپ پور ‘ کنکیر ‘ کیشکل ‘ کونڈاگاوں ‘ نارائن پور‘ دنتے واڑہ ‘ بیجا پور اور کونٹا شامل ہیں۔ دوسرے آٹھ حلقوں خیر گڑھ ‘ ڈونگر گڑھ ‘ راج نند گاوں ‘ ڈونگر گاوں ‘ کھجی ‘ بستر ‘ جگدلپور اور چترا کوٹ میں رائے دہی پانچ بجے شام تک جاری رہی ۔ سکما ضلع کے پالم اڈگو گاوں میں 15 سال کے وقفے کے بعد پولنگ ہوئی جہاں کے جملہ 44 رائے دہندوں نے سہ پہر 2.30 بجے تک ووٹ ڈالے گئے ۔ عسکریت پسندی ترک کرچکے ایک نکسلائیٹ جوڑے مینو رام اور ان کی شریک حیات راج بتی نے بھی نارائن پور حلقہ اسمبلی میں اپنے وٹ کا استعمال کیا ۔ یہ دونوں پہلے ماویسٹوں کے کسکوڈو مقامی دستہ سے وابستہ تھے ۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ عمر رسیدہ رائے دہندوں اور معذور رائے دہندوں نے بھی اس بار اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ بعض رائے دہندوں کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی اور وہ بھی ووٹ ڈالنے آگے آئے ۔ الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 31 الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور 51 وی وی پیاٹ مشینوں کو فنی خرابی کی وجہ سے تبدیل کیا گیا ہے ۔ حکام کی جانب سے آج جن حلقوں میں رائے دہی تھی وہاں انتہائی سخت سکیوریٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ 18 اسمبلی حلقوں میں جملہ 1.25 لاکھ سکیوریٹی اہلکاروں کو انتخابی ڈیوٹی پر متعین کیا گیا تھا ۔ آج جن نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے گئے تھے وہ بستر ‘ کنکیر ‘ سکما ‘ بیجاپور ‘ دنتے واڑہ ‘ نارائن پور ‘ کونڈا گاوں اور راج نندگاوں اضلاع میں واقع ہیں۔ سکما کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ابھیشیک مینا نے کہا کہ ضلع میں اندرونی اور دور دراز علاقوں سے بھی رائے دہندے ووٹ ڈالنے پولنگ بوتھس تک پہونچ رہے تھے جبکہ یہاں ماویسٹوں کی جانب سے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا ۔ عہدیدار نے بتایا کہ بھیجی 2 ‘ گوچن پلی ‘ کولائی گوڑہ اور گورکھا پولنگ اسٹینشوں پر 2013 کے انتخابات میں صفر فیصد رائے دہی ہوئی تھی جبکہ اس بار وہاں خاصی تعداد میں رائے دہندوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ تاہم پولنگ کے دن آج سکیوریٹی اہلکاروں اور نکسلائیٹس کے مابین بیجاپور میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ دنتے واڑہ میں ایک بم حملہ بھی کیا گیا ۔ پولیس نے بتایا کہ بیجاپور ضلع میں کوبرا دستے کے پانچ اہلکار دو علیحدہ انکاونٹرس میں زخمی ہوگئے ۔ دو نکسلائیٹس پیر کی شام گولی مارکر ہلاک کردیئے گئے جبکہ چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں فوج کے ساتھ اُن کا انکاؤنٹر ہوا ۔ انکاؤنٹر کے مقام سے دونوں کی نعشیں دستیاب ہوئیں۔ انتہاپسندوں کے ایک گروپ نے ڈی آر او ٹیم پر دیہات مڈوال کے قریب فائرنگ کردی تھی جس کے بعد فوج نے جوابی کارروائی کی۔ دو انتہاپسند گرفتار بھی کرلئے گئے ۔ چھتیس گڑھ کے وزیر کیدار کشیپ ‘ کنکیر لوک سبھا کے رکن وکرم یسینی اور کانگریس لیڈر دیوتی کرما آج ووٹ ڈالنے والے اہم قائدین میں شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں 190 امیدوار میدان میں تھے جبکہ جملہ 4,336 پولنگ بوتھس قائم کئے گئے تھے ۔ آج کے اہم امیدواروں میں چیف منسٹر رمن سنگھ اور وزیر مہیش گگڈا بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کانگریس کے نو ارکان اسمبلی بھی میدان میں ہیں۔ ریاست میں دوسرے مرحلہ میں 72 نشستوں کیلئے پولنگ ہوگی ۔ وہاں 20 نومبر کو رائے دہی مقرر ہے ۔ ووٹوں کی گنتی کا کام 11 ڈسمبر کو ہوگا اور اسی دن نتائج کا اعلان کیا جائیگا ۔