چراغوں کو اچھالا جارہا ہے

مودی۔امیت شاہ کی کرناٹک پر نظریں
مساجد اور دینی مدارس پر نیا وار…مسلمان ہوش کے ناخن لیں

رشیدالدین
بزرگوں کا کہنا ہے کہ ہر پٹاری خالی نہیں ہوتی اور کسی نہ کسی پٹاری سے اژدھا نکل آتا ہے۔ بی جے پی کیلئے کرناٹک ایسی ہی ایک پٹاری ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری ریاستوں میں کامیابی سے مغرور بی جے پی بے قابو دکھائی دے رہی ہے اور اس نے کرناٹک پر ساری توجہ مرکوز کردی ہے۔ کرناٹک کا شمار جنوبی ہند کی اہم ریاستوں میں ہوتا ہے اور وہ کانگریس زیر قیادت واحد بڑی ریاست ہے۔ امیت شاہ اور نریندر مودی اس ریاست پر قبضہ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں لیکن سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کرناٹک بی جے پی کیلئے کول کیک نہیں کہ اسے کاٹ کر کھالیا جائے۔ سدا رامیا کی قیادت میں کانگریس پارٹی جس طرح بی جے پی کا مقابلہ کر رہی ہے، مبصرین کے مطابق کرناٹک بی جے پی کیلئے سمادھی بن سکتا ہے۔ گجرات اور ہماچل پردیش میں حالیہ انتخابی جیت سے سرشار بی جے پی نے میزورم ، میگھالیہ اور کرناٹک پر توجہ مر کوز کی ہے تاکہ کانگریس مکت بھارت کے نعرے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی سمت پیشرفت کی جاسکے۔2018 ء میں یوں تو پانچ ریاستی اسمبلیوں کی میعاد ختم ہورہی ہے لیکن ان میں کرناٹک بڑی ریاست ہے۔

بی جے پی جنوبی ہند میں کرناٹک کے ذریعہ قدم جمانا چاہتی ہے۔ ملک کی 19 ریاستوں میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہے۔ 14 ریاستوں میں بی جے پی کے چیف منسٹر ہیں تو پانچ ریاستوں میں حلیف جماعتوں کے ساتھ اقتدار میں شریک ہے۔ کانگریس کے مضبوط قلعہ کرناٹک پر قبضہ کرنے کیلئے نریندر مودی۔امیت شاہ جوڑی نے حکمت عملی تیار کرنے تین گھنٹے طویل اجلاس منعقد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کرناٹک میں گجرات کی طرح عوامی مسائل کے بجائے ہندوتوا اور فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس طرح گجرات میں امکانی شکست کو ہندوتوا ایجنڈہ کے ذریعہ کامیابی میں تبدیل کیا گیا ، ٹھیک وہی کھیل کرناٹک میں کھیلا جاسکتا ہے ۔ امیت شاہ کے گزشتہ دنوں دورہ کرناٹک سے بی جے پی کا ایجنڈہ اور بھی واضح ہوگیا ۔ سدا رامیا حکومت کو ہندو دشمن قرار دیتے ہوئے امیت شاہ نے انتخابی بگل بجایا ہے۔ امیت شاہ کو دراصل کرناٹک کے عوام کے مزاج کا اندازہ نہیں ہے۔ سنگھ پریوار نے مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کے نام پر فرقہ وارانہ سیاست کی کوشش کی اور حکومت کی جانب سے ٹیپو جینتی تقاریب کی مخالفت کی۔ ٹیپو سلطان کی سرزمین میں بی جے پی کیلئے قدم جمانا اس لئے بھی آسان نہیں کیونکہ الیکشن سے قبل ہی بی جے پی نے اپنی ذہنیت آشکار کردی ہے۔ جس وقت بی جے پی اور اس کے ہمنوا زعفرانی بریگیڈ کی جانب سے ٹیپو تقاریب کی مخالفت کی جارہی تھی ، ملک کے صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے ٹیپو سلطان کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مخالفت کرنے والوں کو کرارا جواب دیا۔

کانگریس کو ہندو دشمن قرار دینے سے بی جے پی کے عزائم کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ریاست کے کئی علاقہ فرقہ وارانہ طور پر حساس ہیں اور اس کا فائدہ اٹھاکر بی جے پی جارحانہ فرقہ پرستی کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔ چیف منسٹر سدا رامیا نے فرقہ پرستوں سے لوہا لینے کی مثال قائم کی ہے اور بی جے پی کو اسی کی زبان میں جواب دینا اچھی طرح جانتے ہیں۔ امیت شاہ کی زبان میں جواب دیتے ہوئے سدا رامیا نے بی جے پی ، آر ایس ایس اور بجرنگ دل میں دہشت گردوں کی موجودگی کا نہ صرف الزام عائد کیا بلکہ مرکز کو رپورٹ روانہ کرنے کا اعلان کیا۔ سنگھ پریوار کی آنکھ میں آنکھ ملاکر بات کرنے والے قائد کا نام سدا رامیا ہے۔ ہماچل پردیش میں کانگریس نے اقتدار چاندی کے طشت میں رکھ کر بی جے پی کے حوالے کردیا لیکن کرناٹک میں الیکشن کیا ہوتا ہے سدا رامیا بی جے پی کو بتائیں گے۔ سنگھ پریوار سے سدا رامیا نے کہا کہ رام ان کے نام کا حصہ ہے۔ لہذا اس نام پر اب ہم کو بانٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں سنگھ پریوار کو دال آٹے کا بھاؤ پتہ چل جائے گا ۔ گجرات اور ہماچل پردیش میں جس طرح وزیراعظم نے انتخابی مہم میں خود کو جھونک دیا تھا، وہی کرناٹک میں دہرایا جاسکتا ہے۔ بی جے پی یوں تو کرناٹک میں اقتدار میں رہ چکی ہے لیکن دوبارہ اقتدار تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ گجرات وہ سرزمین تھی جہاں مودی۔امیت شاہ نے نفرت کی سیاست کی آبیاری کی۔ 2002 ء گجرات فسادات کے بعد سے ہندوتوا طاقتوں کیلئے ریاست رول ماڈل بن چکی ہے۔ لہذا گجرات میں بی جے پی کی کامیابی حیران کن نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اور چیف منسٹر سدا رامیا بی جے پی کی کامیابیوں کے سفر پر بریک لگانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے۔ بی جے پی کسی نہ کسی طرح فرقہ واریت کے مسائل میں الجھاکر کانگریس کو پھانسنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ سنگھ پریوار کے خلاف صرف بیان بازی سے الیکشن میں کامیابی نہیں مل سکتی بلکہ اس کیلئے حکمت عملی اور ایکشن پلان کی ضرورت ہے۔ بی جے پی یہی چاہے گی کہ سنگھ پریوار پر کانگریس کی تنقیدوں کا سلسلہ جاری رہے تاکہ اکثریتی طبقہ میں ہمدردی پیدا ہو۔ کانگریس کے نئے صدر راہول گاندھی کیلئے بھی کرناٹک کو بچانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ گجرات کی طرح نرم ہندوتوا کی پالیسی کرناٹک میں فائدہ کم اور زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔ لہذا کانگریس کو کرناٹک کے لئے علحدہ حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔ بی جے پی لوک سبھا کے وسط مدتی انتخابات کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ 2019 ء تک عوامی ناراضگی میں اضافہ کا موقع نہ دیا جائے۔ وعدوں کی تکمیل میں ناکامی ، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلوں کا خوف بی جے پی کا تعاقب کر رہا ہے۔ مرکزی حکومت لوک سبھا و ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک وقت میں کرانے کی تیاریوں میں ہے اور اس کے لئے ریاستی حکومتوں کو ہموار کیا جارہا ہے۔ 2018 ء میں 5 اور 2019 ء میں 10 ریاستی اسمبلیوں کی میعاد ختم ہورہی ہے۔ لہذا لوک سبھا اور اسمبلیوں کے الیکشن اڈوانس کرنے کی تیاری ہے۔ بی جے پی نہیں چاہتی کہ 2019 ء تک اپوزیشن کو متحد ہونے کا موقع فراہم کیا جائے ۔ اپوزیشن کے انتشار کا فائدہ اٹھاکر اقتدار کی برقراری بی جے پی کا عین مقصد ہے۔

ہندوتوا ایجنڈہ کو ملک میں نافذ کرتے ہوئے ہندو راشٹر کا خواب دیکھنے والے اپنی سرگرمیوں سے باز آنے تیار نہیں ہے۔ وقفہ وقفہ سے نت نئے تنازعات کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

مساجد اور دینی مدارس فرقہ پرست طاقتوں کے نشانہ پر ہیں۔ اترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ کے چیف منسٹر بننے کے بعد سے تنازعات نے شدت اختیار کرلی ہے اور شرپسندوں کو حکومت کی جانب سے کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے۔ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے بعض نام نہاد میر جعفر اور میر صادق کو استعمال کیا جارہا ہے۔ اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدرنشین وسیم رضوی نے اپنی زہر افشانی کو جاری رکھے ہوئے دینی مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم کو روانہ کردہ مکتوب میں وسیم رضوی نے کہا کہ ملک کے ایک لاکھ دینی مدارس میں دہشت گرد تیار کئے جارہے ہیں، انہیں پاکستان اور بنگلہ دیش سے مدد مل رہی ہے۔ دوسری طرف اترپردیش حکومت میں صوتی آلودگی کا بہانہ بناکر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی سازش کی ہے۔ اترپردیش نے مساجد کے علاوہ دینی درسگاہوں جیسے دارالعلوم دیوبند اور بریلی کے اداروں کو نشانہ پر رکھا گیا ہے۔ وسیم رضوی کی زہر افشانی سے شیعہ قوم نے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مذمت تو کی ہے لیکن اس طرح کے عناصر کی مذمت کافی نہیں۔ انہیں تو قوم سے خارج کرنے کا اعلان کرنا چاہئے ۔ وسیم رضوی بابری مسجد سے دستبرداری کا مسلمانوں کو مشورہ دے چکے ہیں۔ دراصل سماج میں ایسے ضمیر فروشوں کی کمی نہیں ہے جنہوں نے اپنے عقیدہ کو بھی اقتدار اور عہدہ کیلئے گروی رکھ دیا ہے۔ دینی مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنا سنگھ پریوار کے ایجنڈہ کا حصہ ہے اور اس مرتبہ وسیم رضوی کو آگے کردیا گیا۔ دینی مدارس جو کہ اسلام کے قلعے ہیں، وہ ہمیشہ سے ہی فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں۔ دینی مدارس نے جدوجہد آزادی میں جو رول ادا کیا ، اس سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ دہشت گرد نہیں بلکہ دینی مدارس میں محب وطن مجاہدین آزادی پیدا ہوئے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف لڑائی کی قیادت کی۔

یہ وہی دینی مدارس کے فارغ علماء تھے، جنہیں سینکڑوں کی تعداد میں لاہور کے راستہ پر درختوں سے پھانسی پہ لٹکا دیا گیا ۔ دہشت گرد اور انسانیت کے دشمنوں کو تیار کرنے کا کام آر ایس ایس اور بجرنگ دل انجام دے رہی ہیں جہاں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے باقاعدہ ہتھیاروں کے ساتھ ٹریننگ دی جاتی ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ حکومت نے لاؤڈ اسپیکر کو نکالنے کیلئے جو منصوبہ بندی کی ہے، اس کا اثر تلنگانہ میں بھی دیکھنے کو ملا۔ آرمور ضلع نظام آباد کے ایک جج نے اوور ایکشن کرتے ہوئے مساجد پہنچ کر لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی دھمکی دے ڈالی۔ دراصل زعفرانی ذہنیت یو پی تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں ہر سطح پر اس ذہنیت کے افراد کسی نہ کسی طرح بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ تمام فتنوں کا گڑھ اترپردیش بن چکا ہے جو سنگھ پریوار کیلئے ہندو راشٹر کی تشکیل کی آزمائشی فیکٹری ہے۔ اب تو کیندریہ ودیالیاؤں میں بھی ہندو پرارتھنا کو دیگر مذاہب کے طلبہ پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سابق میں سوریہ نمسکار متعارف کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ملک میں جارحانہ فرقہ پرست طاقتیں سر ابھار رہی ہیں لیکن سیکولر جماعتیں اور مسلمان مقابلہ کے بجائے بے حسی کا شکار ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں جبکہ اترپردیش فتنوں کا مرکز ہے، مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس لکھنو میں ہونا چاہئے تھا تاکہ ادتیہ ناتھ حکومت کو بھرپور جواب دیا جاسکے۔ پرسکون اور بہتر مہمان نوازی کے مقامات کے بجائے جدوجہد کی سرزمین پر قائدین کو قوم کی رہنمائی کیلئے جمع ہونا پڑے گا۔ راحت اندوری نے کہا ہے ؎
چراغوں کو اچھالا جارہا ہے
ہوا پر رعب ڈالا جارہا ہے