چدمبرم میں انتخابات میںحصہ لینے کی ہمت نہیں

امیتھی 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )مرکزی وزیر پی چدمبرم کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کو ’’انکاونٹر چیف منسٹر ‘‘ اور ’’سب سے بڑا جھوٹا‘‘ قرار دینے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امیتھی سے قومی نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کی حریف بی جے پی امیدوار سمرتی ایرانی نے آج کہا کہ پی چدمبرم میں اتنی جراء ت نہیں ہے کہ وہ لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کریںکیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ عوام کے سامنے جوابدے ہیں۔

سمرتی ایرانی نے کہا کہ اگر چدمبرم میں عوام کے سامنے جانے کی ہمت ہے اور وہ ان سے تائید طلب کرنے کی جرائت رکھتے ہیں تو وہ انتخابات میں مقابلہ ضرور کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس انتخابی مقابلہ کی جراء ت نہیں ہے کیونکہ وہ تاریخ ہند کی انتہائی بد عنوان حکومت کے وزیر فینانس ہیں۔اگر وہ عوام کے سامنے جائیں تو انہیں عوام کے سامنے جوابدہی کرنی ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس بار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ جمعرات کے دن چدمبرم نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’انکاونٹر چیف منسٹر ‘‘اور ’’سب سے بڑا جھوٹا ‘‘قرار دیا تھاکیونکہ مودی نے ایک دن قبل چدمبرم پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’وزیر دوبارہ رائے دہی‘‘قرار دیا تھا۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ اگر وہ مجھے ایسا (وزیر دوبارہ رائے شماری ) قرار دے رہے ہیں تو میں بھی انہیں ’’انکاونٹر چیف منسٹر ‘‘قرار دوں گا ۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ مودی بہت برے جھوٹے ہیں۔

ان سے کہا گیا ہے کہ انتخابی حلقہ میں دوبارہ رائے دماری نہیں ہوئی تھی۔ انتخابی روایات کا تقاضہ دوبارہ رائے شماری ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نریندر مودی مسلسل جھوٹے بیانات دے رہے ہیں ۔ یہ ان کے جھوٹے بیانات میںسے صرف ایک بیان ہے جس کا بطور نمونہ حوالہ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی ماضی میں انہیں ’’وزیر دوبارہ رائے شماری ‘‘قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے عام جلسوں میں تقریر کرتے ہوئے برسر عام انہیں یہ خطاب دیا تھا ۔ جبکہ وہ 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں دوبارہ رائے شماری کا مسئلہ اٹھا رہے تھے ۔ پی چدمبرم نے ٹاملناڈو کے حلقہ سیوا گنگا سے مقابلہ کیا تھا اور اپنے قریبی حریف کو صرف 3500 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ امیتھی سے راہول گاندھی کے خلاف بی جے پی کی امیدوار سمرتی ایرانی اور عام آدمی پارٹی کے امیدوار کمار وشواس لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کررہے ہیں۔