پھسل بنڈہ میں سابق فوجی کے ہاتھوں نوجوان کی پٹائی، عوام کا احتجاج

حیدرآباد۔14۔اکتوبر (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ پھسل بنڈہ ڈی ایم آر ایل چوراہا کے قریب آج اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب ڈیفنس کے سیکوریٹی گارڈ نے مسلم نوجوان کو معمولی سی ٹکر کے واقعہ پر شدید زد و کوب کیا۔ تفصیلات کے بموجب محمد شہباز ساکن بابا نگر جو پیشہ سے پلمبر ہے، آج رات اپنے مکان واپس لوٹ رہا تھا کہ پھسل بنڈہ کے قریب ڈیفنس کے شعبہ اڈوانس سیکوریٹی لمٹیڈ (اے ایس ایل) سے وابستہ سیکوریٹی گارڈ داسا وانا کولی جو سابق فوجی ہے، سیکل پر مکان واپس لوٹ رہا تھا کہ اچانک دونوں کے درمیان معلوم سی ٹکر ہوگئی۔ اس حادثہ کے بعد کولی نے شہباز کو مبینہ طورپر گالی گلوج کی اور سیکل کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کا مطالبہ کیا، لیکن شہباز نے اپنے غلطی نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انکار کردیا جس پر برہم ڈیفنس سیکوریٹی گارڈ نے احاطہ اے ایس ایل میں لیجاکر شدید زد و کوب کیا۔ شہباز وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور سیکوریٹی گارڈ کے اس حملہ کی مقامی عوام کو اطلاع دی۔ بتایا جاتا ہے کہ حال ہی میں صدیق نگر فرسٹ لانسر میں فوجیوں کے ہاتھوں کمسن طالب علم شیخ مصطفی الدین کو مبینہ طور پر زندہ جلائے جانے پر عوام میں برہمی پائی جاتی ہے اور شہباز پر ڈیفنس سیکوریٹی گارڈ کی جانب سے حملہ کئے جانے کے واقعہ کا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بابا نگر کے قریب راستہ روکو احتجاج کیا۔ کچھ ہی دیر میں وہاں پر حالت کشیدہ ہوگئے اور اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سنتوش نگر مسٹر جے نرسیا اور ٹاسک فورس عملہ وہاں پر پہنچ کر حالت کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ برہم عوام نعرے لگاتے ہوئے اچانک سنگباری شروع کردی، جس میں ایک آر ٹی سی بس کو نقصان پہنچا۔ اتنا ہی نہیں برہم عوام نے اے ایس ایل احاطہ کے روبرو زبردست دھرنا منظم کیا اور خاطی سیکوریٹی گارڈ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔