12فیصد کا نعرہ دے کر4فیصد تحفظات بھی خطرہ میں، شادی مبارک اسکیم جیسی معمولی چمک دمک سے مسلمانوں کو متاثر کرنے کی کوشش، معیاری تعلیم کے نام پر بھی سازش
نلگنڈہ۔/26 جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ماضی میں اسلاف کے کردار سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے جس کیلئے تاریخ کی کئی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ موجودہ نسل تاریخ میں ہوئے کارناموں سے واقف نہیں ہے۔ جمعیۃ علماء سے وابستہ اکبر مولانا محمود تخت نشین وری شاہ ، مولانا نور اللہ افتخاری، مولانا عبدالسبحان نے دکن کے مسلمانوں کی ڈھارس باندھنے کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور جمعیۃ کی بقاء و استحکام کیلئے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار حافظ پیر شبیر احمد صدر ریاستی جمعیۃ علماء نے دارالعلوم نلگنڈہ میں منعقدہ مجلس منتظمہ جمعیتہ علمماء کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ فبروری2019 میں جمعیتہ علماء ہند کا صد سالہ اجلاس عام منعقد ہوگا اور 6 اکٹوبر کو ریاستی جمعیۃ کا اجلاس عام حیدرآباد میں منعقد ہوگا جس میں ریاستی مسلمانوں کے مسائل اٹھائے جائیں گے۔ ریاستی جنرل سکریٹری حافظ خلیق احمد صابر نے کہا کہ پورے ملک میں منظم سازش کے تحت مسلمان ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے غائب کروائے جارہے ہیں یہاں تک کہ بڑے بڑے شہروں کے نامور لوگوں کے نام فہرست میں موجود نہیں ہیں۔ ستر سالہ تاریخ میں اوقافی املاک کا اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا ان چار سالوں میں ریاستی حکومت نے کیا ہے۔ پٹہ پاس بک کے نام پر ہزاروں ایکر اراضی غیروں کے نام کردی گئی ہے۔ موجودہ ریاستی حکومت کا کوئی منسٹر مسلم مسائل پر سنجیدہ گفتگو رنے تیار نہیں ہے۔ شادی مبارک اسکیم جیسی معمولی چمک دمک سے مسلمانوں کو متاثر کیا جارہا ہے۔ معیاری تعلیم کے عنوان پر اخلاق و تربیت سے عاری نسل کو بنانے کے لئے اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں دینیات کا کوئی نظم نہیں ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی اقامتی اسکولس میں مرغی کا گوشت فراہم کرنے کیلئے ضلعی سطح پر کم قیمت میں دینے والوں کو ٹنڈر دیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں مشتبہ گوشت غیر مسلم فراہم کررہے ہیں۔ 12 فیصد تحفظات کا نعرہ دے کر پہلے سے چل رہے چار فیصد تحفظات کے لئے خطرہ پیدا کیا جارہا ہے۔ مولانا مصدق القاسمی سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ نے نئی نسل کی دینی تعلیم پر توجہ دلائی اور مکاتب کے قیام کو وقت کی اولین ضرورت قرار دیا۔ مفتی انعام الحق قاسمی نے نلگنڈہ میں موجود محکمہ شرعیہ حیدر خاں گوڑہ کو مضبوط کرنے اورعائلی تنازعات کی یکسوئی کرلیں ۔ مسلمانوں کو شرعی پنچایت سے رجوع کرنے کے سلسلہ میں شعور بیداری پر اراکین منتظمہ کوتوجہ دلائی۔ اس موقع پر مولانا محمد اکبر خان اسعدی کو ضلعی دینی تعلیمی بورڈ کا صدر اور مولانا یاسر حسین رشیدی کو سکریٹری اور مولانا واحد قاسمی کو خازن بہ اتفاق آراء منتخب کیا گیا۔ مولانا سید احسان الدین قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع نلگنڈہ ، مولانا مخدوم محی الدین نے بھی خطاب کیا۔ مولانا عبدالواحد رشیدی کی قرأت و مولانا واجد قاسمی کی نعت سے جلسہ کا آغاز عمل میں آیا۔ مولانا عبدالرحمن قاسمی نے نظام کے فرائض انجام دیئے۔ حافظ سید فرقان جوائنٹ سکریٹری جمعیۃ علماء نلگنڈہ نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ضلع نلگنڈہ کے تمام منڈلوں کے صدور اور سکریٹریز اور ارکان منتظمہ کے علاوہ شہر کے فکرمند علماء کی کثیر تعداد شریک تھی۔