پُرجوش راجستھان کیخلاف ممبئی بازی پلٹنے کوشاں

احمدآباد ، 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ڈیرڈیولس کے خلاف اپنی سنسنی خیز آخری گیند والی جیت کے پیش نظر پُرجوش و پُراعتماد راجستھان رائلز کا مقابلہ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میں پریشانی سے دوچار ممبئی انڈینس سے کل یہاں رہے گا۔ بیرون شہر سفر کرتے ہوئے اپنے ابتدائی دونوں میچز جیت لینے کے بعد اسٹیون اسمتھ زیرقیادت ٹیم موتیرہ کے سردار پٹیل اسٹیڈیم کے اپنے ’’منتخبہ ہوم گراؤنڈ‘‘ پر اپنا پہلا میچ کھیلے گی۔ رائلز کیلئے اس ٹورنمنٹ کی شروعات اور بہتر نہیں ہوسکتی تھی جبکہ وہ اپنے ابتدائی دو مقابلوں میں دو متضاد فتوحات درج کراچکے ہیں۔ جہاں پونے میں کنگس الیون پنجاب کے خلاف 26 رنز کی کامیابی میدان میں چہل قدمی کی مانند ثابت ہوئی، وہیں رائلز کو اُن کے دوسرے میچ میں دہلی ڈیرڈیولس (ڈی ڈی) نے آخری حد تک جدوجہد پر مجبور کیا جہاں ٹِم ساؤتھی نے انھیں آخری گیند پر شاندار باؤنڈری کے ذریعے کامیابی دلائی۔ آئی پی ایل ہر سال نئے ٹیلنٹ کا پتہ چلاتا ہے اور ابتدائی پانچ دنوں کے بعد بڑودہ کے نوجوان آل راؤنڈر دیپک ہوڈا کے تعلق سے باتیں ہورہی ہیں، جس نے دل جمعی اور جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیتوں کے ساتھ سب کو حیران کردیا ہے۔ ڈی ڈی کیخلاف 25 گیندوں میں 54 رنز نے نوجوان ہریانوی کو ’ چرچا کا موضوع‘ بنادیا اور اجنکیا رہانے اور اسمتھ کی موجودگی میں اس نوجوان سے مزید بہتری کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ جہاں تک ممبئی انڈینس (ایم آئی) کا معاملہ ہے، یہ ممکنہ طور پر بدترین نوعیت کی شروعات ہوئی ہے کیونکہ انھیں ان کے اوپننگ میچ میں ڈیفنڈنگ چمپینس کولکاتا نائٹ رائیڈرز نے بڑی آسانی سے سات وکٹوں سے ہرا دیا تھا جبکہ ہربھجن سنگھ کی غیرمعمولی انفرادی کارکردگی بھی انھیں اپنے دوسرے میچ میں 18 رنز کی شکست سے بچا نہ پائی۔ ویسے کاغذ پر دیکھیں تو رائلز اس میچ کی شروعات پسندیدہ ٹیم کے طور پر کریں گے لیکن ایم آئی کو نظرانداز ہرگز نہیں کیا جاسکتا۔ حتیٰ کہ گزشتہ سیزن کے دوران وہ یو اے ای میں منعقدہ مرحلے میں لگاتار پانچ میچز ہار گئے تھے جس کے بعد غیرمعمولی واپسی کرتے ہوئے پلے آف میچز کیلئے کوالیفائی کرگئے۔ تاہم ایم آئی کیلئے بیٹنگ کسی حد تک فکر کا سبب رہی ہے، جو میدان سے باہر سچن تنڈولکر، انیل کمبلے اور رکی پانٹنگ جیسے آئیکانس رکھتے ہیں تاکہ کھلاڑی مدد حاصل کرسکیں۔ پہلے میچ میں روہت شرما کے سوا اور دوسرے مقابلے میں ہربھجن کو چھوڑ کر ایم آئی کا ٹاپ آرڈر توقعات کے مطابق پرفارمنس پیش نہیں کرپایا ہے۔ اب دیکھنا ہے روہت زیرقیادت ٹیم کل یہاں کیا مختلف مظاہرہ کرپاتی ہے؟