پولیس کے خانگی ٹائپسٹ کے ہاتھوں اعلیٰ افسر کی بیوی کا قتل

حیدرآباد ۔ /9 جولائی (سیاست نیوز) عنبرپیٹ پولیس نے 25 دن قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی شادی شدہ خاتون کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے اس کے قتل میں ملوث پولیس اسٹیشن کے ایک خانگی ٹائپسٹ کو گرفتار کرلیا ۔ 40 سالہ سنیتا ساکن عنبرپیٹ /16 جون کو اپنے مکان سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی اور پولیس کی جانب سے مسلسل تلاش کرنے کے باوجود اس کا پتہ نہ چل سکا ۔ پولیس نے سنیتا کے اچانک لاپتہ ہونے پر اس کا قتل ہونے کے شبہ کے زاویہ میں تحقیقات کا آغاز کیا تھا ۔ تفصیلات کے بموجب عنبرپیٹ پولیس نے مقتولہ سنیتا کے موبائیل فون کے تفصیلات (کال ہسٹری) حاصل کی جس میں پولیس کو کچھ خاص سراغ نہیں ملا لیکن صنعت نگر پولیس اسٹیشن کے لینڈ لائین نمبر سے سنیتا کے موبائیل فون پر کال موصول ہونے پر حیرت زدہ ہوگئے اور اس سلسلے میں تفصیلی تحقیقات کا فیصلہ کیا ۔ تحقیقات میں عنبرپیٹ پولیس کو یہ پتہ چلا کہ سنیتا کو عطا پور کے ساکن جگناتھ نائیڈو جو پولیس اسٹیشن کا خانگی ٹائپسٹ ہے نے فون کیا تھا ۔

پولیس نے نائیڈو کو فوری حراست میں لیکر اس کی تفتیش کی جس میں اس نے سنیتا کے قتل کیس سے متعلق سنسنی خیز انکشافات کیا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ سنیتا اور جگناتھ نائیڈو کے درمیان گزشتہ 4 ماہ سے ناجائز تعلقات قائم ہوگئے تھے اور سنیتا اسے اکثر اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے اصرار کررہی تھی ورنہ اس کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی ۔ سنیتا کی جانب سے مسلسل ہراساں کئے جانے پر جگناتھ نائیڈو نے /16 جون کو عطا پور میں واقع اپنے مکان میں اسے پھانسی دے کر قتل کردیا اور بعد ازاں اس کے جسم کے تکڑے کرکے عطا پور برج سے موسیٰ ندی میں پھینک دیا ۔ اس انکشاف کے بعد عنبرپیٹ پولیس فوری حرکت میں آگئی اور آج صبح عطا پور بریج کے قریب پہونچ کر سنیتا کی نعش کے تکڑوں کی تلاش شروع کردی اور اسی دوران پولیس کو تین تھیلے برآمد ہوئے جس میں اس کے نعش کے تکڑے موجود تھے ۔ لیکن پولیس کو مقتولہ کا سر ہنوز برآمد نہیں ہوسکا ۔ عنبرپیٹ پولیس مقتولہ کے جسم کے دیگر تکڑوں کی تلاش کررہی ہے اور تحقیقات جاری ہے ۔