پنڈت نہرو کی شادی کا اُردو دعوت نامہ

یوں تو فارسی او رفارسی آمیزاُردو قدیم ہندوستا ن میں تعلیم یافتہ طبقہ کی شان اور ان کی علمی صلاحیتوں کا پیش خیمہ ہوا کرتی تھی لیکن بیسویں دہائی کے آغاز سے یا اس کے کچھ پہلے اُردو کو دھیرے دھیرے فراموش کیاجانے لگا۔ اُردو کو سے زیادہ نقصان اس بات سے پہنچا کہ اس کا رشتہ اقلیتی طبقے سے جوڑدیاگیا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اُردو ہمیشہ ہندوستان کی زبان رہی ہے نہ کہ مسلمانوں کی زبان۔اس کا بہترین نمونا اور جیتا جاگتا ثبوت جواہرلا ل نہرو کی شادی کا وہ کارڈ اور دعوت نامہ ہے جو اُردو زبان میں شائع ہوا تھا۔

قابل توجہہ بات یہ ہے کہ اس کا رڈ میں ہندسہ یعنی تاریخ‘ سنہ اور وقت بھی اُردو میں ہی لکھا ہوا ہے۔جواہرلال نہرو اور کملا کول کی شادی سے متعلق تین دعوت نامے جو ایک دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں میرے سامنے ہے اور اس میں تحریر کردہ اُردو پڑھ کر یقیناًاُردو والوں کو اندازہ ہوگا کہ آج مسلم سماج میں شائع اُردو کے شادی کارڈ کی زبان بھی اتنی شیرنی نہیں ہوگی جنتی جواہرلال نہرو کی شادی کارڈ میں ملتی ہے۔ پہلا دعوت نامہ جو پنڈت جواہرلال نہرو کے والد پنڈت موتی لال نہرو کی جانب سے شائع ہوا تھا اور وہ کچھ اس طرح ہے۔


التجا ہے کہ بروز شادی
برخوردار جواہرلال نہرو
بتاریخ۷فبروری۱۹۱۶ء بوقت ۴ بجے شام
جناب معہ عزیزان
غریب خانہ پر چاء نوشی فرماکر
بہمرہی نوشہ
دولت خانہ سمدھیان پر تشریف شریف
ارزانی فرماویں
نہرو ویڈنگ کیمپ ۔بندہ موتی لال نہرو
علی پور روڈ دہلی۔


دوسرا دعوت نامہ جو موتی لال نہرو کی جانب سے مہمانوں کو آنند بھون ( آلہ آباد) میں مدعو کرتے ہوئے شائع کرایاگیاتھا اس بھی دیکھئے۔
تمنا ہے کہ بتقریب شادی
برخوادر جواہر لال نہرو
ساتھ دختر پنڈت جواہرمل کول
بمقام دہلی
بتاریخ ۷فبروری۱۹۱۶ء وتقاریب
مابعد بتواریخ
۸‘۹فبروری سنہ۱۹۱۶ء
جناب معہ عزیزاں شرکت فرماکر مسترت وافتخار بخشیں
بندہ موتی لال نہرو
منتظر جواب
آنندبھون آلہ آباد


تیسرا کارڈ بہورانی یعنی کملا کول کی آمد سے متعلق تھا جس میں عشائیہ کے اہتمام ک تذکرہ تھا اور عزیزان سے شرکت دعو ت ہونے کی گذرش تھی ۔ یہ کارڈدوصفحات پر مشتمل تھا ۔ کارڈ کے الفاظ اس طرح ہیں:
پہلا صفحہ
شادی
برخودار جواہرلال نہرو
ساتھ دختر پنڈت جواہر مل کول صاحب
( دوسرا صفحہ)
اُرزو ہے کہ بتقریب آمدن بہورانی
بتاریخ۹ فبروری ۱۹۱۶بوقت 8بجے شام
جناب معہ عزیزان غریب خانہ پر تناول ماحضر فرماکر مسرت و افتخار بخشیں
بندہ موتی لال نہرو
نہروویڈنگ کیمپ علی پور روڈ۔ دہلی


تینوں کارڈدیکھ کر آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں یہ نہرو خاندان کی اُردو سے محبت کے ساتھ ساتھ علمی ودانشور طبقے میں اُردو کی مقبولیت کی بھی عکاسی ہے۔جہاں تک پنڈت جواہرلال نہروکا معاملہ ہے وہ بچپن سے ہی اُردو ادب خصوصاً شاعری سے شغف رکھتے تھے۔

جن لوگوں نے پنڈت نہرو کی حیات وخدمات کا مطالعہ کیا ہے انہیں معلوم ہے کہ آلہ آباد میں پیدا ہوئے جواہرلال نہرو کو ابتدائی گئی تو سنسکرت ‘ ہندی اور انگریزی کی طرح اُردو میں بھی علیحدہ استاد کی سہولت دی گئی۔یہی سبب ہے کہ انہیں اُردو سے لگاؤ رہا اور ان کے دوستوں میں فراق گورکھپوری‘ جوش ملیح آبادی‘ جگر مرادآبادی ‘ ساغر نظامی‘ بچپن جی وغیرہ شامل تھے۔فراق گورکھپوری کے ساتھ تو انہوں نے کئی مشاعروں میں بھی شرکت کی۔

جواہر لا ل نہرو کی اُردو فہمی کا اندازہ بمبئی کی ایک محفل میں پیش ائے وقعہ سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے۔ دراصل اس محفل میں پرڈیوسر سہراب مودی کی ہیروء اہلیہ مہتاب نے جواہر لال نہرو کے سامے ایک مصرعہ پڑھا جو اس طرح تھا۔تم سلامت رہو ہزار برس ۔ اس مصرعہ کوسنتے ہی جواہرلال نہرو نے فوراً دوسر مصرعہ سنادیا:ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار۔

چونکہ پنڈت نہرو اُردو زبان سے آشنا تھے اس لئے شاعری کی شہرہ آفاق شخصیت علامہ اقبال کو بہت پسند کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے اقبال کی شاعری سے متعلق اپنے نظریات بھی بیان کئے۔ انہوں نے اپنی کتاب تلاش ہندوستان میں ایک مقام پر لکھا ہے کہ ’’ وہ اپنے زمانے کے حالات اور مسلمانوں کے جذبات سے متاثر ہوئے اور خود انہوں نے ان کے جذبات پر اثر ڈالا اور انہیں شدید ترکردیالیکن وہ عوام کی قیات ہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ ایک عالم شاعر اور فلسفی تھے۔

انہوں نے اپنی اُرد و اورفارسی شاعری کے ذریعہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے لئے ایک فلسفیانہ نظریہ مہیا کر دیا‘‘۔ نہرو کے اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اقبال کی شاعری کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیاتھا اور اسی تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب وہ اردو سے رغبت رکھتے ہوں۔ اُردوسے جواہرلال نہرو کی انسیت کا ایک واقعہ اکٹوبر 1946کا بھی ہے ۔

اس وقت انپوں نے سرحدی علاقوں میں قبائیلیوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال کے لئے دورہ کیاتھا۔ اس دوران انہوں نے اُردو میں ہی خطاب کیاتھا۔کچھ لوگوں نے اعتراض بھی ظاہر کیاتھا کہ پشتون میں خطاب کیوں نہیں کیاجارہا ہے ۔

بہرحال جواہرلال نہرو نے اُردو کواہمیت دی اور اسی زبان میں ہی خطاب کرنا پسند کیا۔آ ج ماحول بہت زیادہ بدل گیا ہے ۔ جواہرلال نہرو کی شادی کے 100سال سے زائد ہوگئے ہیں۔ اُردو زبان سے آشنا غیرمسلموں کی تعداد بھی انتہائی کم ہوچکی ہے۔

لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم او ربچوں کے درمیان چاچا نہرو کے نام سے مشہور پنڈت جواہرلال نہرو کی نسل سے تعلق رکھنے والے راہول گاندھی بھی کچھ حد تک اُردوسے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایس اس لئے کہاجاسکتا ہے کیونکہ وہ اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر کبھی کبھی غالب او راقبال جیسے شاعروں کے اشعار پوسٹ کرتے ہیں