سری نگر ، 18 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے جموں وکشمیر کے پنچایتی راج ایکٹ میں 73ویں اور 74ویں ترمیم کے مطالبے کو دفعہ370کو کمزور کرنے کی ایک اور سازش قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ ریاست دشمن عناصر ہماری خصوصی پوزیشن کو مسخ کرنے کے لئے تمام حربے اپنا رہے ہیں۔پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ گذشتہ4سال کے دوران ریاست کو حاصل خصوصی مراعات کو ختم کرنے کے لئے مختلف طریقے اپنائے گئے کبھی سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹوں کی اجرائی کی کوششیں کی گئیں، کبھی شرناتھیوں کو مستقبل باشندگی دینے کی سازشیں رچائی گئیں، کبھی سینک کالونیوں کے قیام کے منصوبے بنائے گئے ، کبھی پنڈت کالونیاں قائم کرنے کے اعلانات کئے گئے ، کبھی 35اے کو ختم کرنے کے لئے جال بنُے گئے اور اب پنچایت راج ایکٹ میں مذکورہ ترامیم لانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھاجپا نہ صرف یہاں کے جمہوری نظام اور اداروں کو کمزور بنانے پر تلی ہوئی ہے بلکہ یہاں کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانا بھی ان کے اداروں میں شامل ہے ۔ یہ لوگ پنچوں اور سرپنچوں کو بااختیار بنانے کے محض شوشے ڈال رہے ہیں، ریاست جموں وکشمیر میں نافذ پنچایت راج ایکٹ میں پہلے ہی یہ عوامی نمائندے بااختیار ہیں۔ عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت نے پنچایتی راج ایکٹ میں 2014میں ترمیم لاکر پنچوں اور سرپنچوں کو 73اور 74ویں ترامیم سے زیادہ بااختیار بنایا ہے ۔ ساگر نے کہا کہ کانگریس نے بھی نیشنل کانفرنس حکومت پر 73ویں ترمیم لاگو کرنے کے لئے سخت دباؤ ڈالا تھا لیکن ہماری حکومت نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد پی ڈی پی اور بھاجپا مخلوط حکومت نے بھی پنچایتی انتخابات کے طریقہ کار میں تبدیل لاکر پنچوں اور چیئرمینوں کو بلواسطہ طور منتخب کرنے کی کوشش کی اور اس کے لئے قانون بھی ترتیب دیا گیا۔پی ڈی پی والے یہ سب اپنے اتحادیوں (بھاجپا) کی خوشنودی کے لئے کررہے تھے ۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ جموں وکشمیر میں نافذ العمل پنچایتی راج ایکٹ کے تحت پنچوں کو براہ راست آبادی منتخب کرتی ہے اور یہی جمہوری نظام کا طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اُس وقت جموں وکشمیر میں پنچایتی راج کی داغ بیل ڈالی جب برصغیر میں اس نظام کا کہیں تصور بھی نہیں تھا۔