پنجاب آج کامیابی کیساتھ بنگلور کا سفر ختم کرنے کا خواہاں

اندور۔13مئی (سیاست ڈاٹ کام) کنگز الیون پنجاب کی ٹیم رواں آئی پی ایل میں اپنا پچھلا میچ ہارنے کے بعد جہاں پلے آف میں اپنی جگہ یقینی کرنے سے اور دور ہوگئی ہے تو وہیں ویراٹ کوہلی کی رائل چیلنجرز بنگلور کی ٹیم ٹورنمنٹ میں آخری امید کیلئے کھیل رہی ہے۔ پنجاب کی ٹیم کو اندور میں ہی اپنے گزشتہ میچ میں کولکاتا نائٹ رائڈرس سے ہمالیائی اسکور کے میچ میں31 رنز سے شکست جھیلنی پڑی تھی۔ اس شکست سے وہ ٹیبل میں اپنے تیسرے ہی نمبر پر برقرار تو رہی لیکن اس کے لئے آگے کی راہ مشکل ہو گئی ہے ۔ اس کے11 میچوں میں 12 پوائنٹس ہیں، لیکن اسے اب کولکتہ سے سخت مسابقت ہے جو12 میچوں میں 12 پوائنٹس لے کر چوتھے نمبر پر آ گئی ہے ۔پنجاب کے لیے پیر کو اندور کے اسی ہولکر اسٹیڈیم پر کوہلی کی بنگلور کے خلاف ہر حال میں جیت درکار رہے گی تاکہ وہ اپنی پلے آف کی راہ کو مضبوط کر سکے اور ساتھ ہی چوٹی کے چار میں اس کے موقف مستحکم بھی ہو۔وہیں مسلسل میچ ہارنے والی بنگلور نے پچھلا میچ دہلی سے پانچ وکٹ سے جیتنے کے بعداپنی امیدیں برقرار رکھی ہیں۔اگرچہ کپتان کوہلی کی ٹیم کیلئے راہ اب مشکل ہی ہے اور ایک بھی میچ ہارنے پر وہ ٹورنمنٹ سے باہر ہو جائے گی کیونکہ اس کے 11 میچوں میں آٹھ پوائنٹس ہیں اور وہ جدول میں بھی ساتویں نمبر پر ہے ۔بنگلور کی ٹیم نے دہلی کو اسی کے میدان پر بڑے ہدف کے باوجود گزشتہ میچ میں شکست دی تھی جس سے اس کے حوصلے کافی بلند ہوئے ہیں اور ٹیم اسی فارم کو آگے برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی جبکہ روی چندرن اشون کی ٹیم پنجاب اس وقت کافی دباؤ میں ہے ۔پنجاب کی ٹیم نے کے کے آر کے خلاف گزشتہ مقابلے میں اپنی مہنگی بولنگ سے میچ گنوایا جس سے حریف ٹیم آئی پی ایل کے موجودہ سیزن کا سب سے بڑا 245 رن کا اسکور بنا یا۔ اگرچہ پنجاب کے فارم میں چل رہے اوپنرس لوکیش راہول اور کپتان اشون کی اننگز سے ٹیم نے 20 اوور میں 214 رن بناکر کافی حد تک میچ جیتنے کی پوری کوشش کی تھی۔یہ واضح ہے کہ ہولکر اسٹیڈیم میں چھوٹی باؤنڈری اور بیٹسمینوں کے لیے مددگار پچ پر جب پنجاب کا سامنا کوہلی، اے بی ڈی ولیرس، مندیپ سنگھ جیسے بیٹسمینوں والی بنگلور سے ہوگا تو پھر اس کے سامنے یہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔ ایسے میں پنجاب کے لئے اگلے میچ میں بولروں کا کردار سب سے اہم ہوگا۔پنجاب کے لئے آف اسپنر اور کپتان اشون، موہت شرما، مجیب الرحمن، اکشر پٹیل اہم بولر ہیں لیکن کے کے آر کے خلاف ان سبھی نے کافی مہنگی بولنگ کی۔ اینڈریو ٹائی41 رنز پر چار وکٹ لے کر سب سے کامیاب رہے ۔دوسری طرف بنگلور کے پاس بھی اچھی بولنگ ہے لیکن اسے اپنے کھیل کے ہر شعبہ میں اصلاح کی بھی ضرورت ہے ۔ رنز بنانے کے لیے ٹیم آغاز سے ہی کوہلی اور اے بی پر منحصر ہے جو ٹیم کے ٹاپ اسکورر ہیں ۔دہلی کے خلاف بھی دونوں نے 70 اور ناٹ آؤٹ 72 رن کی نصف سنچری اننگز کھیلی لیکن باقی کھلاڑیوں کو دیکھیں تو اوپننگ میں پارتھیو پٹیل، معین علی وہیں مڈل آرڈر میں مندیپ، سرفراز نے مایوس کیا۔بنگلور کے پاس بولروں میں یزویندر چہل، امیش یادو، ٹم ساؤتھی، محمد سراج اس کے مضبوط کھلاڑی ہیں۔