جنگاؤں ۔ 12 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پسماندہ طبقات کے مشہور و ممتاز لیڈر مسٹر پنالہ لکشمیا کو صدر تلنگانہ پردیش کانگریس نامزد کیا گیا ہے۔ انہیں حلقہ اسمبلی جنگاؤں سے مسلسل چار مرتبہ کامیابی کا اعزاز حاصل ہے۔ امریکی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل مسٹر پی لکشمیا نے عوام کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا ہے۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کے اعلان کے ساتھ ہی علیحدہ پی سی سی تلنگانہ تشکیل دی گئی۔ پہلے تلنگانہ پی سی سی صدر کا موقع ضلع ورنگل کے اسمبلی حلقہ جنگاؤں کے قائد پنالہ لکشمیا کو ملا۔ یہ بڑا اعزاز ہے۔ ضلع ورنگل کی تاریخ ہے۔ جنگاؤں اسمبلی حلقہ کے جناب محمد کمال الدین احمد کو بھی آندھرا پردیش پی سی سی صدر کا موقع ملا تھا۔ جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے دوسری مرتبہ یہ موقع ملا ہے۔ جناب کمال الدین احمد کو 1994ء میں صدر پی سی سی بنایا گیا تھا۔ وہ دو سال تک اس عہدہ پر نامزد تھے۔ اب اس حلقہ کے قائد مسٹر پنالہ لکشمیا کو علیحدہ تلنگانہ کے قیام پر صدر بننے کا موقع ملا۔
جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے پنالہ لکشمیا پہلی مرتبہ 1985ء سے مقابلہ کرتے ہوئے ہار گئے تھے۔ اس کے بعد 1989ء میں دوبارہ جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور 1991ء میں این جناردھن ریڈی کی کابینہ میں ریاستی وزیر تھے۔ 1994ء میں جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرتے ہوئے ہار گئے۔ مسلمان بابری مسجد کی شہادت پر کانگریس پارٹی سے ناراض تھے، اس لئے آندھرا پسردیش میں کانگریس کا صفایا ہوگیا تھا۔ 1999ء میں جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کئے۔ اس کے بعد 2004ء میں جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کی کابینہ میں ریاستی وزیر بھاری آبپاشی بنائے گئے۔ 2009ء کے اسمبلی انتخابات میں جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی اور دوبارہ ریاستی وزیر بنائے گئے۔ کرن کمار ریڈی کی کابینہ میں ردوبدل کے بعد انہیں آئی ٹی کا منسٹر بنایا گیا۔ اب آنے والے دن ان کے لئے آزمائش کے ہیں جبکہ بلدیہ کے انتخابات اور زیڈ پی ٹی سی، ایم پی ٹی سی کے انتخابات اور پارلیمنٹ و اسمبلی کے انتخابات منعقد شدنی ہیں۔ بہت بڑی ذمہ داری دی گئی ہے۔