اسکولوں میں داخلے کے وقت اردو زبان اول درج کروانے کا مشورہ
بیدر:/21 مئی ( ذریعہ ای میل ) مختلف اسکولوں میں داخلوں کا موسم شروع ہوچکاہے۔ ایسے میں رہنمایانہ خطوط دیتے ہوئے بیدر کے بی ای اوجناب ڈاکٹر محمدگلسین نے صحافیوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ اولیائے طلبہ کسی بھی میڈیم کے اسکول میں اپنے بچوں کا داخلہ کرواتے وقت اُردو زبان کو فرسٹ لنگویج یا پھر تھرڈ لینگویج کی حیثیت سے رکھیں اسی طریقے سے اُردو زبان کی بقا ہوگی۔موصوف نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ چند طلبہ انگریزی میڈیم سے پڑھنا چاہتے ہیں لیکن ان مسلم بچوں کی مادری زبان اُردوہوتی ہے ، ایسے میں اگریہ طلبہ ایک لینگویج کے طورپر اردو پڑھتے ہیں تو اس سے اردو کی ترقی اور بقا ہوگی ۔ عموماًدیکھا گیاہے کہ انگریزی میڈیم میں داخلہ لینے والے طلبہ انگریزی ہی سے تعلیم حاصل کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہے ۔محکمہ تعلیمات عامہ نے تمام اسکولوں کو ہدایات جاری کی ہیں اور یہ قانون ہے کہ طلبہ اپنی پسند کی زبان میں داخلہ اور اپنی پسند کے مضمون کے ذریعہ تعلیم حاصل کرسکتاہے یہ اس بچے کاتعلیمی حق ہے۔ انھوں نے چند ایک اسکولوں کانام لیا جس میں گرونانک پبلک اسکول کی بات کہی اور کہاکہ مادری زبان اردو والے مسلم بچے گرونانک پبلک اسکول میں فرسٹ لینگویج اور تھرڈ لینگویج کی حیثیت سے داخلہ لے کر اپنی زبان اردو کے ساتھ بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ۔ اگر اسکول کے انتظامیہ کو اعتراض ہوتو وہ بی ای او سے یعنی مجھ سے رجوع کرسکتے ہیں ۔واضح رہے کہ ذریعہ تعلیم اور مضامین کایہی فارمولہ کنڑا کے لئے بھی لاگو ہوتاہے۔ اردو سیکنڈ لینگویج کی حیثیت سے البتہ نہیں لی جاسکتی ۔