بنگلور(ایجنسیز) لوک سبھا کی سابق اسپیکر اور سینئر کانگریس لیڈر میرا کمار نے کہاکہ حالیہ دنوں میں کانگریس کو یکے بعد دیگرے جس طرح شکست کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ پارٹی کے روایتی ووٹ بینک کو پھر یکجا کرنے کیلئے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی ذمہ داری پریانکا گاندھی کو اٹھانی چاہئے۔ آج کے پی سی سی دفتر میں پارٹی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پریانکا کی ماں سونیا گاندھی نے بھی انتہائی فعال اور متحرک طریقے سے پارٹی کو آگے بڑھایا ، ملک میں دس سال اگر یو پی اے حکومت برسراقتدار رہی تو یہ سونیاگاندھی کی متحرک جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ لیکن وقت کی آواز یہی ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں پارٹی کی قیادت سونپی جائے۔ میرا کمار نے کہاکہ کانگریس ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو تمام طبقات کے لوگوں کو یکساں نظر سے دیکھتی آئی ہے۔اس پارٹی نے کبھی کسی مخصوص طبقے کے ووٹ بینک کی سیاست نہیں کی۔ دلت، پسماندہ طبقات اور سماج کے دیگر کمزور طبقات کی فلاح کیلئے کانگریس نے ہمیشہ سے کلیدی رول اداکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار رہے یا نہ رہے ، ملک اور سماج کی تعمیر کی اہم ذمہ داری کانگریس کے کندھوں پر ہے۔ میرا کمار نے کہاکہ وہ ہمیشہ سے کانگریس کی وفادار رہے ہیں، لوک سبھا اسپیکر ہوتے ہوئے بھی ان پر یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیں ، لیکن کانگریس کی رکنیت پر برقرار رہتے ہوئے ہی انہوں نے لوک سبھا اسپیکر کی ذمہ داری کو غیر جانبداری سے ادا کیا۔ اس موقع پر کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے پارٹی دفتر میں میرا کمار کی آمد کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس واحد سیاسی جماعت ہے جہاں دلت طبقات کے نمائندوں کو اونچی عہدوں پر فائز ہونے کا موقع فراہم کیاگیا۔ مگر افسوس کہ دیگر سیاسی جماعتوں میں دلتوں کے تئیں وہ جذبۂ احترام نہیں ۔ اس موقع پر وزیر برائے سماجی بہبود ایچ آنجنیا ودیگر موجود تھے۔قبل ازیں مسٹر آنجنیا کی رہائش گاہ پر وزیر اعلیٰ سدرامیا ، سابق مرکزی وزیر کے ایچ منی اپا اور ریاست کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ میرا کمار نے ناشتہ پر ملاقات کی،اور ریاست کے سیاسی حالات پر تفصیلی بات چیت کی۔اس موقع پر اراکین پارلیمان چندرپا، مدوہنومے گوڈا، بی کے سریش ، دھروانارائنا ، اراکین اسمبلی آر وی دیوراج، جی رام کرشنا ، پسماندہ طبقات ترقیاتی کارپوریشن کے چیرمین رام چندرپا ، ایس سی /ایس ٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی چیرپرسن مالاجما ، فارسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیرمین نارائن سوامی وغیرہ موجود تھے۔میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے میرا کمار نے ریاست میں کسی دلت کو وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی مانگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت ریاست میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ خالی نہیں ہے، جب بھی خالی ہوگایقینا کسی دلت کو وزیر اعلیٰ کی کرسی سونپنے پر غور کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ دلت کو صرف وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ ملک کا وزیر اعظم بننا چاہئے۔جہاں تک ریاست کرناٹک کا سوال ہے وزیراعلیٰ سدرامیا پچھلے دیڑھ سال کے دوران انتہائی دیانتداری سے کام کررہے ہیں۔ سماج کے تمام مظلوم طبقات کو اعتماد میں لے کر ان کی فلاح وبہبود کیلئے حکومت اسکیمیں ترتیب دے رہی ہے۔ میرا کمار نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جو بھی ہوں ان کی ذمہ داری یہی ہے کہ سماج کے مظلوم طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں ایس سی / ایس ٹی طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے سالانہ بجٹ میں 16ہزار کروڑ روپیوں کی رقم مہیا کرائی گئی ہے،جوکہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں انہیں مظلوم طبقات کی حمایت کی بدولت کانگریس بہت مضبوط ہے۔ حکومت آنے والے دنوں میں ان طبقات کو اور بھی مضبوط تر کرنے کیلئے منصوبہ سازی کرے گی۔