پرتھوی راج چاوان چیف منسٹر مہاراشٹرا برقرار رہیں گے: کانگریس

نئی دہلی 10 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر مہاراشٹرا مسٹر پرتھوی راج چاوان اپنے عہدہ پر برقرار رہیں گے اور مہاراشٹرا میں جاریہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی قیادت کرینگے ۔ پارٹی ہائی کمان نے آج یہ بات بتائی اور اس نے ریاست میں قیادت میں تبدیلی کے تعلق سے جاری تجسس کو ختم کردیا ہے ۔ کل ہند کانگریس کے جنرل سکریٹری و انچارچ مہاراشٹرا کانگریس امور مسٹر موہن پرکاش نے کہا کہ مسٹر چاوان مہاراشٹرا کے چیف منسٹر برقرار رہیں گے اور ریاست میں مجوزہ اسمبلی انتخابات ان کی قیادت میں ہی لڑے جائیں گے ۔ مسٹر پرکاش کے اس بیان سے ریاست میں کانگریس قیادت میں تبدیلی کے تعلق سے جاری تجسس ختم ہوگیا ہے ۔ لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں کانگریس کو ہوئی بدترین شکست کے بعد ریاست میں قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ مسٹر چاوان نے آج دہلی میں کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی سے ملاقات کی تھی

جس کے بعد ان کی برقراری کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ پارٹی میں یہ احساس زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آخری وقت میں ریاست میں قیادت میں تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کے نتیجہ میں پارٹی کو نقصان ہی ہوسکتا ہے ۔ مسٹر چاوان نے کل کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی اور بعد ازاں کہا تھا کہ ان کی پارٹی صدر سے ملاقات بہت اچھی رہی ہے اور اس ملاقات کے موقع پر انہوں نے مہاراشٹرا میں اکٹوبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے پارٹی کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ عام انتخابات میں پارٹی کی شکست کو دیکھتے ہوئے کچھ ریاستی قائدین نے ان کی عہدہ سے بیدخلی کا مطالبہ کیا تھا ۔ کانگریس کو مہاراشٹرا میں لوک سبھا کی 48 لوک سبھا نشستوں کے منجملہ صرف دو پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ ایک نشست سے سابق چیف منسٹر اشوک چاوان نے جیتی تھی جو موجودہ چیف منسٹر پرتھوی راج چاوان کے کٹر مخالف سمجھے جاتے ہیں۔

مسٹر چاوان پارٹی ہائی کمان سے راحت پانے والے دوسرے چیف منسٹر ہیں۔ اس سے قبل پارٹی ہائی کمان نے چیف منسٹر ہریانہ بھوپیندر سنگھ ہودا کو بھی عہدہ سے بیدخل کرنے سے گریز کیا تھا ۔ ہریانہ میں بھی پارٹی کو لوک سبھا انتخابات کے بعد شکست ہوئی تھی اور وہاں بھی مہاراشٹرا کے ساتھ اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ کل ہند کانگریس کمیٹی نے ہریانہ اور مہاراشٹرا کے چیف منسٹرس کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جبکہ ایک دن قبل ہی بی جے پی نے امیت شاہ کو پارٹی صدر نامزد کیا ہے ۔ 50 سالہ امیت شاہ وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور اتر پردیش میں انہیں پارٹی کی کامیابی کا ذمہ دار سمجھا جارہا ہے ۔ بھوپیندر سنگھ ہودا نے بھی کل سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد یہ واضح اشارے دئے گئے تھے کہ کانگریس ہائی کمان انہیں بیدخل نہیں کریگی اور عہدہ پر برقار رکھا جائیگا ۔

اس کے علاوہ اسمبلی انتخابات میں وہی پارٹی کی قیادت کرینگے ۔ ہریانہ میں بھی چونکہ پارٹی کو لوک سبھا انتخابات میں شکست ہوئی تھی اس لئے یہ قیاس کیا جارہا تھا کہ وہاں بھی پارٹی قیادت میں تبدیلی کی جائیگی ۔ سینئر کانگریس لیڈر مسٹر بریندر سنگھ نے حال ہی میں بھوپیندر سنگھ کے خلاف اظہار خیال کرتے ہوئے ہریانہ میں پارٹی کی شکست کیلئے انہیں ذمہ دار قرار دیا تھا ۔ چند دن قبل پارٹی ہائی کمان نے آسام کو پارٹی کے مبصر کی حیثیت سے مسٹر ملکارجن کھرگے کو روانہ کیا تھا اور وہاں بھی قیادت میں تبدیلی کے مطالبات کئے جا رہے ہیں ۔ پارٹی نے آسام کے تعلق سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ مہاراشٹرا اور ہریانہ کی طرح آسام میں بھی پارٹی کو زیادہ کامیابی نہیں ملی تھی ۔ وہاں تاہم اسمبلی انتخابات کیلئے دو سال کا وقت ہے ۔