سلواڈور، 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) پرتگال کے اسٹار کھلاڑی پے پے پر ورلڈ کپ کے پہلے میچ کے بعد ہی تین میچوں کی پابندی کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز گروپ جی میں جرمنی کے خلاف اہم میچ میں پے پے کو امپائرنگ کے فیصلے کی سخت خلاف ورزی پر ریڈ کارڈ دکھا دیا گیا تھا۔ میچ کے 37 ویں منٹ میں پے پے نے جرمن اسٹار تھامس مولر کو منہ پر ہاتھ مار کر گرا دیا تھا جس پر امپائر نے فاؤل دیا، تاہم اس کے باوجود پے پے نے اپنی جگہ کھڑے رہنے کے بجائے اپنا سر مولر کے سر سے جا ٹکرایا۔ سربیا کے امپائر میلورڈ میزک نے اس حرکت کے بعد فوری طور پر انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر میچ سے باہر کر دیا۔ ریڈ کارڈ کے باعث وہ اگلے میچ سے باہر ہو چکے ہیں لیکن کھیل کے قوانین توڑنے کی پاداش میں ان پر تین میچوں کی پابندی عائد کئے جانے کا خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ اس میچ میں جرمنی نے تھامس مولر کی شاندار ہیٹ ٹرک کی بدولت پرتگال کو 4-0 کی عبرتناک شکست سے دوچار کیا تھا۔ اگر پے پے پر تین میچوں کی پابندی لگتی ہے تو اس لحاظ سے خطرہ ہے کہ وہ مزید اس ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے پائیں گے کیونکہ اگر پرتگالی ٹیم اگلے راؤنڈ میں باہر ہوتی ہے تو دفاعی کھلاڑی کا ورلڈ کپ میں پہلا میچ ہی آخری بن جائے گا۔ دوسری جانب فیفا نے ہونڈوراس کے کھلاڑی ولسن پلاسیوس اور یوراگوئے کے میکسی پریرا پر ایک، ایک میچ کی پابندی کی توثیق کر دی ہے۔ پلاسیوس کو فرانس کے خلاف میچ میں خطرناک انداز میں کھلاڑی کو ’ٹیکل‘ کرنے پر دو زرد کارڈ ملے تھے جو قوانین کے تحت ریڈ کارڈ میں تبدیل ہو گئے۔ اس پابندی کے باعث ہونڈراس کے کھلاڑی اپنی ٹیم کے ایکواڈور کے خلاف اہم میچ سے باہر ہو گئے ہیں۔