پاکستان 1992ء کی تاریخ دہرانے کیلئے پُرعزم

کراچی۔18ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ورلڈ کپ میں عظیم کھلاڑی نہیں ہوں گے لیکن موجودہ پاکستانی ٹیم اپنی کارکردگی سے دنیا کو حیران کرچکی ہے اور ورلڈ کپ میں بھی حریف ٹیمیں حیران کن نتائج کے لئے تیار رہیں۔ہمارے نوجوان کھلاڑی ورلڈ کپ مشن کے لئے مکمل تیاری کررہے ہیں۔ ہم نے بڑی ٹیموں کو شکست دی ہے ۔لاہور میں مینار پاکستان میں ورلڈ کپ کی تقریب رونمائی کے موقع پر میڈیا سے خطاب کررہے تھے۔پاکستان نے 1992کا ورلڈ کپ آسٹریلیامیں جیتا تھا۔ مصباح وہاں تاریخ کو دہرانے کیلیے پرعزم ہیں۔ پاکستانکو میگا ایونٹ میں دفاعی چیمپین ہندوستان ‘ جنوبی افریقہ ،ویسٹ انڈیز،آئرلینڈ‘ زمبابوے،اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ گروپ بی میں رکھا گیا ہے۔پاکستان کا پہلا میچ 15فبروری کو ایڈیلیڈ میں روایتی حریف ہندوستانسے ہوگا۔کرائسٹ چرچ میں21فبروری کو پاکستان ۔ویسٹ انڈیز،یکم مارچ کو برسبین میں زمبابوے،4مارچ کو نپیئر میں متحدہ عرب امارات ، 7مارچ کو آکلینڈ میں جنوبی افریقہ،15مارچ کو ایڈیلیڈ میں آئرلینڈ سے مقابلہ ہوگا۔ہر گروپ سے چار ٹیمیں ناک آوٹ مرحلے کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کریں گی ۔

مصباح نے کہا کہ ہمارے پاس آج عمران خان،جاوید میاں داد،وسیم اکرم انضمام الحق،مشتاق احمد ،عاقب جاوید جیسے کھلاڑی نہیں ہیں‘لیکن ٹیم اچھی کارکردگی دکھانے کی اہل ہے۔ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم میں کون کھیلے گا یہ سب واضح ہے اور منصوبہ مکمل ہے۔سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ اس بارے میں بالکل واضح منصوبے رکھتے ہیں۔ چند ایک کھلاڑی کی تبدیلی ہوسکتی ہے لیکن ورلڈ کپ کو سامنے رکھ کر کام ہورہا ہے۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے حالات اور کھلاڑیوں کی فارم دیکھ کر ہم منصوبہ مکمل کر لیں گے۔مصباح الحق نے کہا کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کون سی ٹیم ورلڈ کپ جیتے گی۔پسندیدہ ٹیم کا اس وقت علم ہوگا جب پتہ چلے کہ ٹورنمنٹ کے وقت کونسی ٹیم فارم میں ہے اور تسلسل کے ساتھ جیت رہی ہے۔ناک آوٹ مرحلے میں کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں‘ ان فیصلوں کا درست ہونا بھی بہت اہم ہے۔ورلڈ کپ میں حیران کن نتائج کی توقع رکھنی ہوگی۔

مصباح الحق نے مزید کہا کہ عمران خان سے وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی رہتی ہے اور عمران کرکٹ کے بارے میں رہنمائیکرتے رہتے ہیں۔ٹوئنٹی 20ٹورنمنٹ کے دوران عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی۔کوشش کریں گے کہ ورلڈ کپ کے لئے آسٹریلیا۔ نیوزی لینڈ جانے سے قبل ان کے تجربات پر مشاورت کریں۔ کوشش کریں گے کہ ان سے اچھی باتیں اور مشورے لے کر جائیں۔کپتان نے کہا کہ دنیا کی ہر ٹیم پر نشیب و فراز آتے ہیں۔ایشیا کپ کے بعد سے ہم بھی برے دور سے گذر رہے ہیں۔سری لنکا کی سیریز میں ہماری کارکردگی اچھی نہ تھی۔سال کے آغاز میں ہم نے جنوبی افریقہ سے ونڈے سیریز جیتی،ایشیا کپ میں اچھا کھیلے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ سیریز کچھ مشکل تھی۔ ٹیم پرکوئی ذہنی دبائو نہیں ہے اورورلڈ کپ سے قبل دو مکمل سیریزیں موجود ہیں۔