ممبئی۔ 25 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیوسینا نے کہا کہ صرف بات چیت منسوخ کرنا کافی نہیں ہے، ہندوستان کو چاہئے کہ سبق سکھانے کیلئے اپنے پڑوسی ملک کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔ شیوسینا کے ترجمان ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں شیوسینا نے کہا کہ حالانکہ حکومت ہند نے پاکستان کے ساتھ معتمدین خارجہ سطح کے مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن پاکستانی رینجرس، ہماری سرحدی چوکیوں پر فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، اس لئے ہمیں وہاں جاکر انہیں سبق سکھانا چاہئے، حالانکہ حکومت نے پاکستان کو انتباہ دینا کا فیصلہ کرتے ہوئے کہ وہ ہندوستان کے خلاف ’’نیابتی جنگ‘‘ نہ کرے۔ حکومت نے سرحد پر حملے کرنے کے لئے کافی انتباہ دیئے ہیں۔ خود وزیراعظم نے پاکستان کو انتباہ دیا ہے کہ اب ہمیں ان کی سرزمین پر جاکر ان پر حملہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت سے ہر ہندوستانی کو یہی توقع ہے۔ اگر مرکز میں کانگریس حکومت ہوتی، جبکہ پاکستانی رینجرس کے ہاتھوں بے قصور لوگ ہلاک کئے جارہے ہیں تو ہر سیاسی پارٹی اس مسئلہ سے نمٹنے میں بے عملی کا مظاہرہ کرنے پر (حکومت کی) تنقید کرتی، لیکن ہندوستانی عوام کو نئی حکومت سے بہت سی توقعات ہیں۔ ہم درخواست کرتے ہیں کہ حکومت اپنے آپ کو ایک مضبوط حکومت اور طاقتور مرکز ثابت کرے۔ ضلع سامبا میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں توسیع کرتے ہوئے پاکستانی فوجیوں نے 40 سرحدی چوکیوں پر اور 24 دیہاتوں پر جو بین الاقوامی سرحد پر واقع ہیں، شلباری کی ہے جس سے 3 افراد زخمی ہوگئے۔ ہفتہ کے دن پاکستانی فوجیوں نے دن کے وقت ضلع پونچھ کے ضمنی سیکٹر شاہ پور میں فائرنگ کی تھی جس میں 2 افراد ہلاک اور دیگر 6 بشمول بی ایس ایف سپاہی زخمی ہوگئے تھے اور5 مکانات تباہ ہوگئے تھے۔ صیانتی عہدیداروں کے بموجب یہ ایک ہفتہ کے اندر کئی بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ہے۔ شیوسینا کے کارگذار صدر ادھو ٹھاکرے ہمیشہ پارٹی کے ترجمان ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں اسی قسم کی اشتعال انگیزی کرتے ہیں اور متنازعہ بیانات دیا کرتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے عصمت ریزی کے مجرم ایک پولیس عہدیدار کی تائید کی تھی۔