میر پور۔20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام)پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ہندوستان کے خلاف مجموعی طور پر ونڈے میں ریکارڈ بہت بہتر ہے لیکن آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی روایتی حریف کیخلاف کارکردگی مایوس کن ہے۔ آئی سی سی کے ہر عالمی مقابلے میں ہندوستان کو شکست دینے کی امید ہوتی ہے لیکن ہر مقابلے میں یہ امید دم توڑ جاتی ہے اب پھر وہ اسی امید کے ساتھ جمعہ کو میرپور کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ہندوستان کے مدمقابل ہونے والی ہے۔ یہ وہی اسٹیڈیم ہے جہاں چند ہفتے قبل پاکستان نے ہندوستان کو ایشیا کپ کے میچ میں ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔ ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ میں کل دونوں ٹیمیں چوتھی مرتبہ آمنے سامنے ہوںگی۔ اس سے قبل تینوں مقابلوں میں ہندوستان ٹیم نے فتوحات حاصل کی ہیں۔ 2007 ء میں پہلے ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں ہندوستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
یہ وہی میچ ہے جس میں مصباح الحق نے چار چھکوں کی مدد سے 43 رنز اسکور کئے تھے لیکن آخری اوور میں وننگ شاٹ کھیلنے کی کوشش میں سری سانت کو کیچ دے بیٹھے تھے۔دونوں ٹیموںکے درمیان اسی عالمی کپ کا گروپ مقابلہ ٹائی ہوگیا تھا جس کے بعد ہندوستان نے بال آؤٹ کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میچ میں بھی مصباح الحق نے نصف سنچری اسکور کی تھی لیکن آخری گیند پر فتح کیلئے درکار دو رنز نہیں بناسکے تھے۔ پاکستان اور ہندوستا کے درمیان ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ مقابلوں میں تیسرا میچ2012ء میں کولمبو میں کھیلا گیا تھا جس میں پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔ پاکستان اور ہندوستان آئی سی سی ورلڈ کپ میں بھی پانچ مرتبہ مدمقابل ہوچکے ہیں اور یہ تمام مقابلے بھی پاکستان کی شکست پر ختم ہوئے ہیںتاہم پاکستان نے ہندوستان کو آئی سی سی چیمپینس ٹرافی میں دو مرتبہ شکست دی ہے۔