نئی دہلی 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ورلڈکپ میں ہندوستان کو ممکن ہے کہ کبھی بھی شکست نہیں ہوسکتی لیکن سابق اسپنر وینکٹ پتی راجو کا احساس ہے کہ ایڈیلیڈ میں کھیلے جانے والے پہلے ورلڈکپ مقابلہ میں مہندر سنگھ دھونی کے زیرقیادت ٹیم کو دفاعی چمپئن ہونے کے سبب اپنے کٹر حریفوں کے شدید دباؤ کا سامنا رہے گا۔ وینکٹ پتی راجو نے جو ایشین کرکٹ کونسل میں ڈیولپمنٹ آفیسر بھی ہیں، پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہاکہ ’’حالیہ ماضی میں ہندوستان نے پاکستان کے خلاف ہمیشہ ہی بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن دفاعی چمپئن ہونے اور اس حقیقت کے سبب کہ ورلڈکپ میں انھوں (ہندوستان) نے اپنے روایتی کٹر حریفوں کے خلاف کبھی شکست کا سامنا نہیں ہے، میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہم پر دباؤ برقرار رہے گا۔ پاکستان کے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے اور ہمارے پاس ہر چیز پانے کیلئے ہے‘‘۔ وینکٹ پتی راجو 1992 ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ میزبان میں منعقدہ ورلڈکپ ٹورنمنٹ میں حصہ لینے والی ہندوستانی ٹیم میں شامل تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستانی ٹیم کو چاہئے کہ وہ 15 فروری کے پہلے کھیل میں جیت کے ساتھ اپنی دفاع کا آغاز کریں۔
اُنھوں نے مزید کہاکہ ’’ورلڈکپ میں پاکستان کے خلاف ہندوستان کی کامیابی کو لوگ دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ چنانچہ اس سے ہم پر خود بخود دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو اگر چمپئن ٹیم بننا ہے تو ہر صورتحال میں آپ کو اچھا کھیلنا ہوگا۔ جیت کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے پہلے ہی مقابلہ جیت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنا ہوگا‘‘۔ راجو چاہتے ہیں کہ ہندوستان ٹاپ چھ ٹیموں میں اپنا مقام بنائے لیکن آئی سی سی کے نئے قواعد کے برصغیر کی ٹیمیں دشوارکن وقت سے گزر رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ ہندوستان کے بارے میں کوئی پیش قیاسی کرنا نہیں چاہتے لیکن اس خیال کا اظہار کیاکہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیمیں بولنگ اور بیاٹنگ کے اعتبار سے دو بہترین ٹیمیں معلوم ہوتی ہیں۔ نیوزی لینڈ، ہند اور سری لنکا کی ٹیمیں ٹاپ چھ میں جگہ بنانے کی بھرپور کوشش کریں گی لیکن برصغیر کی ٹیموں کو اس کے لئے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔