کراچی ؍ ریاض ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز نے آج یمن پر پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد کو ملک کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پاکستان سے بہتر پذیرائی کی توقع تھی۔ عبدالعزیز اتوار کو کراچی پہنچے، جہاں ان کے ساتھ ایک پانچ رکنی وفد بھی ہے۔ یمن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ یمن میں شیعہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت والی افواج فضائی حملے کررہی ہے وہیں پاکستان کو سعودی عرب اور گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کی جانب سے فوجی امداد فراہم کرنے زبردست دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے فوجی اور غیرفوجی عہدیداروں کے ساتھ متعدد اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد کئے تاکہ اس بات کی قطعیت دی جائے کہ پاکستان یمن کی جنگ کا حصہ بنے گا یا نہیں۔ ایک طرف جہاں یہ بیان دیا گیا ہیکہ پاکستان یمن کی سرحدی اتحاد کو متاثر ہونے نہیں دے گا۔ تاہم اس کے باوجود سعودی کیقیادت والی افواج میں پاکستان نے اپنی فوجیں شامل نہیں کی ہے۔ لہٰذا جمعہ کے روز نواز شریف نے پاکستانی پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا جہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان یمن کی جنگ کا حصہ بنتے ہوئے غیرجانبدار موقف اپنائے گا۔ دوسری طرف پاکستان میں متعدد مذہبی گروپس نے پارلیمنٹ کی جانب سے منظور شدہ قرارداد پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے خلاف جس جنگ میں شامل ہوا ہے اور پاکستان سے بھی امداد طلب کی ہے تو پاکستان کو سعودی کی امداد کیلئے آگے آنا چاہئے۔ اہلسنت الجماعت کے سربراہ مولانا لدھیانوی ننے کہا کہ ہم یہ ہرگز نہیں چاہتے کہ کوئی بھی حرمین شریفین (خانہ کعبہ) کی بے حرمتی کرے۔ مولانا لدھیانوی لاہور میں گذشتہ کئی دنوں سے سعودی عرب کی تائید میں ریالیاں نکال رہے ہیں، نے کہا کہ ایسی کئی ریالیاں کراچی میں بھی نکالی جائیں گی جس کے بعد ایک کل جماعتی کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی تاکہ ’’حرمین شریفین بچاؤ‘‘ کے منصوبہ کو قطعیت دی جاسکے۔ اگر ہماری حکومت (پاکستان) نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تو ہم سعودی عرب چلے جائیں گے۔ مزید برآں یہ جنگ کوئی دو ممالک کے درمیان نہیں لڑی جارہی ہے بلکہ باغیوں کے خلاف لڑی جارہی ہے۔ انصارالامہ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور اب پاکستان کی باری ہے کہ وہ سعودی عرب کا ساتھ دے ۔