پاکستان خود پر مسلط کردہ جنگ نہیں لڑے گا : عمران خان

دہشت گردی کے خلاف پاکستانی مسلح افواج کی جدوجہد مثالی ۔ وزیر اعظم پاکستان کا خطاب

اسلام آباد 26 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آج دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان پر مسلط کردہ جنگ قرار دیا اور انہوں نے عہد کیا کہ پاکستان اس طرح کی جنگ اپنے ملک میں نہیں لڑیگا ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے یہ بات کہی ۔ ٹرمپ نے بارہا پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد نہیں کی ہے ۔ عمران خان نے ملک کی وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد شمالی وزیرستان کے قبائلی اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے مقامی قائدین سے خطاب میں کہا کہ ہم نے خود پر مسلط کردہ ایک جنگ اپنے ملک میں لڑی ہے اور ہماری جنگ کی خون پسینے سے بہت بھاری قیمت چکائی گئی ہے ۔ ہم نے اس جنگ کی وجہ سے ہمارا سماجی و معاشی مقام کھودیا ہے اور اب مستقبل میںاس طرح کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جانی چاہئے ۔ عمران خان کے ساتھ اس موقع پر فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا بھی موجود تھے ۔ انہوں نے فوج ‘ دوسری سکیوریٹی ایجنسیوں اور انٹلی جنس ایجنسیوں کی کامیابیوں کی ستائش کی جو انہوں نے دہشت گردی کے خلاف حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے جو کچھ کیا ہے اس کی مسلح افواج نے جو کچھ کیا ہے وہ کسی اور ملک یا وہاں کی مسلح افواج نے نہیں کیا ہے ۔ اس طرح انہوں نے ٹرمپ کی تنقیدوں کا جواب دیا ہے جنہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد نہیں کی ہے ۔ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ پاکستان کو 1.3 بلین ڈالرس کی مدد اس وقت تک معطل رہے گی جب تک پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو اپنے ملک میں ختم نہیں کرتا ۔ امریکہ 2001 سے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ وہ پاکستان سے اس معاملہ میں مسلسل مدد طلب کرتا رہا ہے ۔ قبائلی علاقوں کے دورہ کے موقع پر عمران خان کو اب تک کی گئی کارروائیوں سے ‘ فی الحال جاری کارروائیوں سے ‘ بے گھر افراد کی بازآباد کاری کے اقدامات سے ‘ سماجی و معاشی ترقی کے پراجیکٹس پر عمل آوری سے اور پاکستان ۔ افغانستان سرحد کی فینسنگ کی تفصیلات سے واقف کروایا گیا ۔ انٹرسروسیس پبلک ریلیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ بات بتائی گئی ۔ عمران خان نے افغانستان کے امن و استحکام میں اہم رول ادا کرنے کے عہد کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سرحدات کے پار بھی اور خاص طور پر افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ ہم افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں اپنا رول ضرور ادا کرینگے ۔ اس دورہ کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے صحت ‘ تعلیم ‘ روزگار اور انتظامیہ کے شعبہ جات میں کئی اہم فلاحی و ترقیاتی پراجیکٹس کا اعلان بھی کیا ۔