پاکستان افتتاحی مقابلے میں بڑا خطرہ نہیں :اظہر الدین

نئی دہلی 6 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) تین ورلڈ کپ ٹورنمنٹ میں ہندوستان کی کامیاب نمائندگی کرنے کے علاوہ پاکستان کے خلاف اپنی ٹیم کو فتوحات دلانے والے سابق کپتان اظہر الدین نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے افتتاحی مقابلے میں 15 فبروری کو پاکستان ہندوستان کیلئے کوئی بڑا خطرہ ثابت نہیں ہوگی جیسا کہ اس مقابلہ کا شائقین کو بے چینی سے انتظار ہے ۔ اظہر الدین نے پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک خاص انٹرویو میں کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کھیلا جانے والا مقابلہ ہمیشہ ہی ایک بڑا مقابلہ ہوتا ہے اور ورلڈ کپ مقابلوں میں ہمیں پاکستان کے خلاف کبھی شکست نہیں ہوئی ہے اور یہ ریکارڈ تمام کھلاڑیوں کے ذہن میں بھی موجود رہے گا اس کا ہندوستانی کھلاڑیوں کو فائدہ بھی ہوگا اور وہ بہتر مظاہروں کے ذریعہ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ افتتاحی مقابلے میں ہندوستان کیلئے پاکستان کوئی بڑا خطرہ ہے ۔

ایک جانب افتتاحی مقابلے میں پاکستان کو بڑا خطرہ قرار نہ دینے کے باوجود اظہر الدین کا ماننا ہے کہ 15 فبروری کو ایڈیلیڈ میں کھیلاجانے والا مقابلہ ہندوستان کیلئے آسان مقابلہ بھی نہیں ہوگا ۔ چونکہ ہندوستان نے آسٹریلیا کے خلاف بہتر مظاہرے کئے ہیں اس کی بنیاد پر ہندوستان کامیابی کیلئے پسندیدہ ٹیم ہے ۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک اسٹائلش بیٹسمین اظہر الدین نے کہا کہ آئی سی سی ورلڈ کپ 2015 کی قطعی چار ٹیموں میں رسائی ہندوستان کیلئے آسان نہیں ہوگی کیونکہ سیمی فائنل میں رسائی کیلئے ہندوستانی ٹیم کو نہ صرف زیادہ سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے ہوں گے بلکہ اپنے مظاہروں میں استقلال کا بھی ثبوت دینا ہوگا ۔ ہندوستانی ٹیم جتنی فتوحات اور استقلال کے ساتھ مظاہرہ کرے گی

اتنا ہی کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوں گے جو مہندر سنگھ دھونی کی زیر قیادت ٹیم کیلئے اپنے خطاب کے دفاع کیلئے ضروری ہے ۔ اظہر الدین نے مزید کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیم ایک با صلاحیت ٹیم ضرور ہے لیکن فی الحال مظاہروں میں عدم استقلال اور کھلاڑیوں کے ان فٹ ہونے سے اسے مسائل کا سامنا ہے ۔ آسٹریلیا میں منعقدہ ونڈے سریز کے دوران ہندوستانی ٹیم بہتر مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے کھلاڑیوں کے حوصلے بکھر گئے ہیں اور کھلاڑیوں کے ا ن فٹ ہونے سے بھی ٹیم کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹسٹ سیریز اور اس کے بعد سہ رخی سیریز کے فائنل تک عدم رسائی نے ہندوستانی ٹیم کیلئے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں

جو 1992 میں بھی تھے جہاں ہندوستان نے پاکستان کو شکست دینے کے باوجود سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کی تھی۔ ورلڈ کپ سے عین قبل آسٹریلیا کے ایک طویل ترین دورہ کے متعلق سابق کپتان نے کہا ہے کہ بورڈ کی جانب سے جو فیصلہ کیا جاتا ہے اس کے مطابق سیریز کھیلی جاتی ہے لہذا کوئی بہانہ نہیں چلے گا ۔ اظہر الدین نے کہا ہے کہ بورڈ نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی سیریز کو قطعیت دی ہے اور اس پر عمل ہوا ہے لہذا ہمیں شکایت نہیں کرنی چاہئے ۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف ٹسٹ سیریز اور پھر سہ رخی سیریز کھیلی جانی تھی تو اس کے حساب سے ہی کھلاڑیوں کی فٹنس کا بھی منصوبہ ہونا چاہئے تھا۔ علاوہ ازیں کرکٹ میں کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کا خدشہ ہمیشہ ہی رہتا ہے ۔