پاکستان آج جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی کامیابی کیلئے کوشاں

آکلینڈ ۔ 6 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) گروپ میں نسبتاً دو کمزور ٹیموں کے خلاف متواتر فتوحات حاصل کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم نے رواں ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں اپنی رسائی کی اُمیدوں کو برقرار رکھا ہے ، تاہم کل اس کا مقابلہ ٹورنمنٹ کی ایک مضبوط اور خطاب کی دعویدار ٹیم جنوبی افریقہ سے ہوگا جہاں وہ ورلڈ کپ کی پہلی کامیابی کیلئے کوشاں ہے ۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان 1992 ء ، 1996 ء اور 1999 ء کے ٹورنمنٹس میں تین مقابلے ہوچکے ہیں تاہم تینوں مرتبہ پاکستانی ٹیم کو شکست برداشت کرنی پڑی ہے ۔ 1992 ء کی چمپئین ٹیم پاکستان کو اس مقابلے میں کامیابی حاصل کرنی ضروری ہے تاکہ کوارٹر فائنل میں رسائی کیلئے گروپ کی کسی دوسری ٹیموں کے نتیجے پر انحصار نہ کیا جاسکے ۔ دوسری جانب جنوبی افریقی ٹیم جس نے ہندوستان کیخلاف حیران کن شکست کے بعد ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ کے خلاف متواتر دو مرتبہ 400 سے زائد رنز کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے کامیابی کی سمت واپسی کی ہے ۔ جنوبی افریقہ کیلئے کپتان اے بی ڈی ویلیرس کا غیرمعمولی فام ، ہاشم آملہ اور فاف ڈوپلیسی کی سنچریوں نے کافی اہم رول ادا کیاہے جبکہ ڈی ویلیرس نے 27 فبروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 66 گیندوں میں 162 رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے ونڈے کرکٹ میں تیز ترین 150 رنز کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا ہے ۔ کل کے مقابلے میں گروپ کی سب سے طاقتور بولنگ پاکستان اور گروپ کی طاقتور بیٹنگ جنوبی افریقہ کے درمیان ایک دلچسپ ٹکراؤ متوقع ہے ۔ پاکستانی ٹیم کے کوچ وقار یونس نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ان کے فاسٹ بولر محمد عرفان فٹ ہوچکے ہیں اور وہ کل جنوبی افریقہ کے خلاف میدان سنبھالیں گے

کیونکہ متحدہ عرب امارات کے خلاف کھیلے گئے گزشتہ مقابلے میں وہ صرف تین اوورس ہی بولنگ کرپائے تھے ۔ پاکستانی ٹیم اس اہم مقابلے میں بیٹنگ مظاہروں میں بہتری کی خواہاں ہوگی ۔ جنوبی افریقی ٹیم کی فاسٹ بولنگ قیادت دنیا کے نمبر ایک فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کررہے ہیں جن کے ہمراہ فاسٹ بولر مرنی مورکل کے علاوہ لیگ اسپنر عمران طاہر بہترین مظاہرہ کررہے ہیں جبکہ عمران طاہر نے 4مقابلوں میں 9 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی اوپنر ناصر جمشید نے گزشتہ تین مقابلوں میں صفر ، 1 اور 4 رنز اسکور کئے ہیں اور امید ہے کہ ان کے مقام پر وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کو موقع دیا جاسکتا ہے ۔

علاوہ ازیں نمبر 3 پر سہیل حارث استقلال کے ساتھ مظاہرہ تو کررہے ہیں لیکن ان کے پیر میں تکلیف ہے جس سے وہ صحت یاب ہورہے ہیں ۔ دریں اثناء حارث اگر مقابلے سے قبل مکمل صحتیاب نہیں ہوپاتے ہیں تو پھر ٹیم میں سینئر کھلاڑی یونس خان کی بھی واپسی متوقع ہے ۔ جنوبی افریقہ کیلئے بیٹسمین جے پی ڈومنی اور فاسٹ بولر ورنان فلینڈر نے فٹنس امتحان کامیاب کرلیا ہے ۔ اُمید ہے کہ ڈومنی یقینی طورپر فرحان بہردین کے مقام پر ٹیم میں واپسی کرسکتے ہیں جبکہ فلینڈر کیلئے ان فارم ساتھی بولر کائیل ایبٹ سے سخت مسابقت موجود ہے کیونکہ ایبٹ شاندار مظاہرہ کررہے ہیں ۔ جنوبی افریقہ کیلئے تشویش کا واحد پہلو اس کے اوپنر کوئنٹن ڈیکاک کا ناقص فام ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ پانچ مقابلوں میں وہ صرف ایک مرتبہ دوہرے ہندسے کو عبور کرپائے ہیں ، تاہم ٹیم انتظامیہ کو اُمید ہے کہ وہ بہتر واپسی کریں گے ۔