کراچی ۔ 11اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے واضح کردیا ہے کہ کہ ٹیم میں اس کھلاڑی کی کوئی ضرورت نہیں جس کا رویہ ٹیم کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ 20 کروڑ افراد میں سے منتخب ہوئے ہیں لہذا انھیں ملک وقوم کے لیے کھیلنا ہے۔؎ واضح رہے کہ عالمی کپ کے بعد ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں کو کپتان کوچ اور منیجر کی رپورٹ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور بنگلہ دیش دورے کے لیے ٹیم منتخب کرتے ہوئے چیف سلیکٹر ہارون رشید نے بھی یہ کہا تھا کہ کھلاڑیوں کو یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں اور اپنے کھیل میں سنجیدگی اختیار کریں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ٹیم میں شامل نہ کیے جانے کا بنیادی سبب ان کا عالمی کپ کے دوران مبینہ منفی رویہ تھا جس کے بارے میں کوچ وقار یونس نے اپنی رپورٹ میں بھی لکھا تھا۔و
قار یونس نے کہا کہ انھیں اس بات پر حیرانی ہے کہ ان کی رپورٹ باہر آگئی۔عالمی کپ کے دوران ان کے جو بھی تحفظات تھے وہ انھوں نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیے تھے اور انھیں خوشی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے رویوں کے بارے میں قدم اٹھایا اور کچھ چیزوں پر عمل کیا۔انہوں نے کہا یہ کسی کی ذاتی ٹیم نہیں ہے بلکہ پاکستان کی ٹیم ہے اس میں جو اچھا کرے گا اور جس کی ٹیم کے ساتھ سنجیدگی ہوگی وہی کھیلے گا۔انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ سینیئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔وقار یونس نے کہا کہ اگر صحیح وقت پر نوجوان باصلاحیت کرکٹرز ٹیم میں شامل نہ کییجائیں تو آپ دنیا کی دوسری ٹیموں سے بہت پیچھے رہ جائیں۔گذشتہ ورلڈ کپ میں بھی نوجوان کھلاڑی شامل کیے جاسکتے تھے لیکن نہیںکئے گئے۔وقار یونس نے کہا کہ وہ تمیز کے دائرے میں رہ کر تنقید کرنے والوں کی عزت کرتے ہیں لیکن جو لوگ تمیز کے دائرے میں تنقید نہیں کرتے انھیں ان کی پروا نہیں ہے۔