پاسوان بی جے پی سے اتحاد کیلئے تیار

نئی دہلی ۔ 26 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی نے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی تیاری پوری کرلی ہے جس کی وجہ سے ایل جے پی اور آر جے ڈی کے ساتھ مل کر سیکولر اتحاد قائم کرنے کانگریس کی کوششوں کو زبردست دھکہ پہنچا ہے۔ واضح رہیکہ ایل جے پی نے 2002ء میں این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرلی تھی۔ بی جے پی اور ایل جے پی کے مابین اتحاد کا اندرون چند یوم اعلان متوقع ہے کیونکہ ایل جے پی پارلیمانی بورڈ نے اس تعلق سے کسی بھی فیصلہ کا صدر رام ولاس پاسوان کو اختیار دیا ہے۔ پارلیمانی بورڈ کے سربراہ چراغ پاسوان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایل جے پی پارلیمانی بورڈ نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر رام ولاس پاسوان کو پارٹی مفاد میں کسی بھی فیصلہ کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی ۔ کانگریس اور ایل جے پی کے مابین اتحاد کے تعلق سے تعطل پیدا ہوگیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایل جے پی بی جے پی سے اتحاد کرے گی انہوں نے کہا کہ اب ایل جے پی کیلئے تمام راہیں کھلی ہیں۔

ایل جے پی سربراہ نے کہا کہ پارلیمانی بورڈ کے ارکان کی یہ رائے تھی کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیلئے راہیں کھلی رکھی جانی چاہئے۔ رام ولاس پاسوان نے کہا کہ آر جے ڈی کے ساتھ ہماری دیرینہ شکایات ہیں۔ انہوں نے لالو پرساد یادو سے جیل میں بھی ملاقات کی تھی لیکن جب وہ جیل سے باہر آئے اس کے بعد آر جے ڈی قائدین نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ایل جے پی کو 3 نشستیں دی جانی چاہئے۔ ہم نے نشستوں کی تقسیم کا معاملہ کانگریس پر چھوڑ دیا تھا اس کے بعد کئی ماہ ہم نے انتظار کیا لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی یہ تصور کرتی ہیکہ ایل جے پی کی کوئی اہمیت و وقعت نہیں ہے۔ اگر ایک جماعت 25 نشستیں (آر جے ڈی) اور دوسری جماعت 15 نشستیں (کانگریس) حاصل کرتی ہیں تو اس کا صاف مطلب ہیکہ یہ دونوں بھی ایل جے ڈی کو اتحاد کا حصہ نہیں سمجھتیں۔ یہی وجہ ہیکہ پارٹی نے انہیں (پاسوان) کو نئی متبادل راہیں تلاش کرنے کا اختیار دیا ہے۔