پارٹی نظریات کی بجائے فرد ِ واحد کی بنیاد پر مقابلہ شکست کا سبب

نئی دہلی۔/17فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی کے انتخابات میں بی جے پی کے صفایا کے بعد آر ایس ایس کے ترجمان ’’پنچ جنیہ ‘‘ نے چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے کرن بیدی کو امیدوار بنانے پر سوال اٹھائے ہیں اور حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اتحاد کا فقدان ، منصوبہ بندی یا پارٹی کارکنوں کے جذبات کا احترام نہ کرنے سے کیااس کی قیمت چکانی پڑی ہے؟ بی جے پی کے حلقوں میں بعض پارٹی لیڈروں کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے آر ایس ایس ترجمان میں شائع ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں شکست کی وجوہات کا محاسبہ کیا جائے اور دوسروں کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے بری الذمہ نہ ہوجائے۔ آر ایس ایس نے یہ بھی نکتہ اٹھایا ہے کہ بعض لیڈروں کا یہ بھرم تھا کہ وہ عوام میں سب سے زیادہ مقبول ہیں، کیا دہلی کے انتخابات میں مودی لہر کا بھرم ٹوٹ گیا ہے؟۔ یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ انتخابات میں بی جے پی کو شکست کیوں ہوئی؟ کیا کرن بیدی کو چیف منسٹر کے امیدوار کی حیثیت سے پیش کرنے کا فیصلہ صحیح تھا؟ اور اس مسئلہ پر مرکزی وزیر ہرش وردھن اور دیگر لیڈروں کے درمیان اختلافات بھی ایک وجہ تھی؟ یا پھر کسی کو بھی چیف منسٹر امیدوار کے طور پر پیش کئے بغیر مقابلہ کرنا تھا؟۔ مضمون میں یہ نشاندہی کی گئی کہ بی جے پی میں اتحاد اور منصوبہ بندی کا فقدان تھا جبکہ پارٹی کارکنوں کے جذبات کا احترام نہیں کیا گیا۔ میگزین کے ایڈیٹر نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو کم از کم اپنے نظریات اور پارٹی کا رکنوں کے قطع نظر شکست کی وجوہات کا خلاصہ کرنا ہوگا۔

اگرچیکہ پارٹی کارکنوں نے انتخابات میں خلوص اور لگن سے کام کیا تھا لیکن حکومت اور تنظیم سے وابستہ بعض افراد کا یہ احساس تھا کہ پارٹی ایک مشین ہے جو ان کی مرضی سے کام کرتی ہے جس کے نتیجہ میں انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا اور خوش فہمی کا غبارہ پھوٹ گیا۔’ پنچ جنیہ ‘ میں کہا گیا کہ پارٹی کارکنوں کی محنت اور لگن کے باعث بی جے پی کا ووٹ بینک برقرار رہا اور کارکنوں میں جاگزین قوم پرستی کے نظریات بی جے کیلئے کارگر ثابت ہوئے۔ اس کے باوجود پارٹی کو شکست کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہیئے۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی اور خوش فہمی کے خول سے باہر نکل آئے۔ پارٹی کے نظریات کی بجائے شخصیت پرستی کو فروغ دینے کی کوشش نہ کی جائے اور یہ پارٹی لیڈروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے ساتھ جڑے رہیں۔