نئی دہلی۔ 9 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ریل بجٹ پر ترنمول کانگریس ارکان کے برہم احتجاج نے لوک سبھا میں آج مسلسل دوسرے دن خلل اندازی پیدا کی اور یہ راجیہ سبھا تک بھی پہنچ گئی۔ پارلیمنٹ وقفہ سوالات کے دوران کوئی کارروائی نہیں کرسکی۔ کلیان بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی زیرقیادت پلے کارڈس اٹھائے ہوئے ترنمول کانگریس کے ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے۔ وہ لوک سبھا کے اجلاس کا آغاز ہوتے ہی ریل بجٹ میں مغربی بنگال کے لئے ’’انصاف‘‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کررہے تھے۔ وہ کل پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ پر حملے کی مذمت بھی کررہے تھے۔ پلے کارڈس پر تحریر نعرے کچھ اس طرح تھے ’’اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ پر لوک سبھا میں برسراقتدار پارٹی کی جانب سے غیرجمہوری حملوں کی ہم مذمت کرتے ہیں‘‘، ’’ریلوے بجٹ میں بنگال کا حصہ کیا ہوا؟‘‘ ، ’’مہنگائی ہٹاؤ ، دیش بچاؤ‘‘ وغیرہ۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان کے اندر پلے کارڈس لہرانے پر اعتراض کیا اور احتجاجی ارکان کو انتباہ دیا کہ وہ سخت کارروائی پر مجبور نہ کریں،
کیونکہ ایوان پارلیمنٹ میں پلے کارڈس ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہے۔ سمترا مہاجن نے احتجاجی ارکان سے کہا کہ وہ پلے کارڈس ساتھ لانے والے ارکان کو انتباہ دیتی ہیں کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس ہوجائیں۔ ریل بجٹ پر مباحث کے دوران آپ کوئی بھی مسئلہ اُٹھا سکتے ہیں۔ تمام ارکان پارلیمنٹ باقاعدگی سے خبر نامے وصول کررہے ہیں جن میں واضح طور پر تحریر ہے کہ ایوان پارلیمنٹ میں پلے کارڈس کی اجازت نہیں ہے، تاہم ترنمول کانگریس کے ارکان اپنے موقف پر اٹل رہے، اور نعرہ بازی جاری رکھی۔ کچھ دیر تک پلے کارڈس بھی لہراتے رہے۔ ترنمول کانگریس کے ارکان نے احتجاج کے دوران جو نعرے لگائے، وہ اس طرح تھے: ’’وزیراعظم ہائے ہائے‘‘ ، ’’پارلیمنٹ پر بی جے پی کی غنڈہ گردی نہیں چلے گی‘‘، ’’وزیراعظم جواب دو‘‘ اور ’’ممتا بنرجی زندہ باد‘‘۔ کیرالا کے بعض ارکان پارلیمنٹ بھی مبینہ طور پر ریل بجٹ میں ان کی ریاست کے ساتھ تعصب برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کررہے تھے۔