پارلیمنٹ کے احاطہ میں وائی ایس آرکانگریس کا دوسرے دن بھی احتجاج

تحریک عدم اعتمادبی جے پی اور تلگودیشم کے درمیان سودے بازی کا الزام

نئی دہلی19جولائی(سیاست ڈاٹ کام ) اے پی کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کامطالبہ کرتے ہوئے ریاست کی اصل اپوزیشن جماعت وائی ایس آرکانگریس پارٹی نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوسرے دن بھی پارلیمنٹ کے احاطہ میں گاندھی جی کے مجسمہ کے روبر و احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھام کر یہ احتجاج کیا ۔پلے کارڈس پر”ہم اے پی کے لئے خصوصی درجہ چاہتے ہیں”نعرہ تحریر تھا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وائی ایس آرکانگریس کے لیڈر وراپرساد نے کہا کہ موجودہ سیشن میں تلگودیشم پارٹی کی تحریک عدم اعتماد کی قبولیت ، گزشتہ سیشن میں وائی ایس آرکانگریس پارٹی کی قربانی کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے کوئی معمولی دباو مرکز پر نہیں ڈالا ہے ۔ان کی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے مل کر یہ دباو ڈالا ہے ۔گزشتہ چار برسوں سے وزیراعلی چندرابابونائیڈو نے ریاست کو خصوصی درجہ کی بات نہیں کہی اور اب حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہے ۔ مودی حکومت کے خلاف جمعہ کولوک سبھا میں تحریک عدم اعتمادکی مباحث اور رائے دہی سے جگن موہن ریڈی کی زیرقیادت وائی ایس آرکانگریس پارٹی کا کچھ تعلق نہیں ہے ۔پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے یہ بات بتائی۔پارٹی کے سینئرلیڈر وائی وی سبا ریڈی نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں یواین آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو تحریک عدم اعتماد ایک ڈرامہ ہے ۔تلگودیشم پارٹی ہنوز بی جے پی کے ساتھ ربط میں ہے ۔ہمارے لوک سبھاکے تمام ارکان نے استعفی دے دیا ہے اور ہمارے پاس لوک سبھا کے کوئی ارکان نہیں ہیں اسی لئے ہمارا کل کی بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ارکان راجیہ سبھا اور دیگر لیڈران اے پی اور یہاں کے عوام کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور این چندرابابونائیڈو کی زیرقیادت تلگودیشم پارٹی وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوگئے ہیں۔