نئی دہلی، 19دسمبر(سیاست ڈاٹ کام)روزانہ ایک اہم شخصیت کی طرح لباس پہن کر اے پی کو خصوصی درجہ کے لئے مرکزی حکومت پر دباو کا دعوی کرنے والے تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ این سیواپرسا د آج 18ویں صدی کی اہم شخصیت و انگریزوں کے باغی ویرپانڈیا کٹا بومانم کی طرح لباس پہن کر پارلیمنٹ پہنچے ۔ویرپانڈیانے برطانوی تسلط کی مخالفت کی تھی اور انگریزوں کے خلاف جنگ کی تھی۔انگریزوں نے پٹاکوٹائی کے حکمران وجیا رگھوناتھاتونڈامائی کی مددسے ان کو گرفتار کرتے ہوئے پھانسی دی تھی۔ سیواپرساد نے زنجیریں پہن رکھی تھیں تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ کس طرح انگریزوں نے ویرپانڈیا کٹا بومانم کے ساتھ رویہ اختیار کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اے پی کو خصوصی درجہ نہ دیئے جانے پر مودی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی اورکہا کہ مودی عوام سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ اے پی کو خصوصی درجہ کے مسئلہ پر مودی نے چندرابابونائیڈو کو دھوکہ دیا ہے ۔صرف باتیں ہی کی گئیں اور گڑبڑ کی صورتحال پیداکی گئی ۔انہوں نے کہا کہ اے پی کے دارالحکومت کے لئے جب فنڈس مانگے گئے تو مودی نے صرف مٹی اورپانی ہی نئے دارالحکومت کے لئے کیا اور فنڈس سے محروم کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ مودی کے غرور کے نتیجہ میں کڑپہ میں اسٹیل فیکٹری کے قیام کے لئے کی مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی کوششیں نہیں کی گئیں۔