پارلیمانی کارروائی میں خلل تکلیف دہ : سمترا مہاجن

نئی دہلی۔22 جون (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے آج ایک اہم بیان دیا جو دراصل پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے آغاز سے قبل اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایم پیز کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پارلیمانی کارروائی میں مسلسل رخنہ اندازی کو عوام بغور دیکھ رہے ہیں اور انتخابات یہی عوام اپنا کوئی بھی فیصلہ سناسکتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کا آئندہ ماہ سے آغاز ہورہا ہے۔ سمترا مہاجن نے انتہائی دُکھ بھرے لہجہ میں کہا کہ پارلیمنٹ ایک ایسا مقام ہے جہاں بحث و مباحثہ، مکالمہ اور فیصلے کئے جاتے ہیں لہٰذا تمام ایم پیز کو ضوابط اور آداب کا پورا پورا خیال رکھنا چاہئے۔ تاہم اس کے برعکس ہو کیا رہا ہے؟ پارلیمانی کارروائی میں باربار رخنہ اندازی کی جارہی ہے۔ ویژن انڈین فائونڈیشن کی جانب سے ترتیب دیئے گئے ایک ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوںن ے یہ بات کہی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ایم پیز ایوان کے درمیان تک پہنچ جاتے ہیں جس کا جواب دیتے ہوئے سمترا مہاجن نے کہا کہ تمام ایم پیز اپنی پارٹی کے ایجنڈے پر عمل آوری اور وہی کرتے ہیں جو ان کی پارٹی کا قائد کہتا ہے۔ تمام ایم پیز کو اصول و ضوابط کی ایک کتاب دی گئی ہے جس پر انہیں عمل آوری کرنی چاہئے۔ بار بار کی رخنہ اندازی اور رکاوٹوں کی وجہ سے جب ایوان کی کارروائی کو ملتوی کیا جاتا ہے تو اس سے مجھے (مہاجن) بیحد تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے تمام پارٹی قائدین سے خواہش کی کہ وہ پارلیمنٹ میں ہونے والی بار بار رخنہ اندازی کا خاص طور پر نوٹ لیں اور اس سے اجتناب کریں تاکہ پارلیمانی کارروائی بغیر کسی رکاوٹ اور رخنہ اندازی کے جاری رہ سکے۔