سڈنی ۔18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) ٹی ٹوئنٹی لیگز کی بھرمار اور دولت کی کشش نے بین الاقوامی کرکٹ کو خطرات اور انٹرنیشنل کرکٹرز فیڈریشن ( فیکا) کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ فیکا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کرکٹ بورڈز کو خبردار کیا گیا ہے کہ نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی بجائے فری ایجنٹس بن کر دنیا بھر میں ایک سے دوسری ٹی 20 لیگ میں شرکت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ فیکا نے ’’ شفٹنگ لینڈ اسکیپ‘‘ کے عنوان سے رپورٹ مرتب کی ہے جس میں پاکستان اور ہندوستان کے سوا دیگر ممالک کے300 کرکٹرز سے اس موضوع پر رائے لی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور ہندوستان میںکرکٹرز کی نمائندہ تنظیم موجود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی 20 لیگز سے ملنے والا پیسہ اور شہرت کی وجہ سے نوجوان کھلاڑیوں کیلئے ملکی ٹیم کے کنٹریکٹس کی وہ اہمیت نہیں رہی گئی جو ایک دہے قبل تھی۔ اب مختلف لیگز کھیل کر پختگی پانے والے کھلاڑی کیلیے ملازمت کی نئی مارکیٹ موجود ہوتی ہے۔ یہ بات روایتی کرکٹ نظام کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی کھلاڑی سینٹرل کنٹریکٹس کی مختصر مدت، کرپشن، کام کے دبائو اور بین الاقوامی کرکٹ کی شیڈولنگ سے بھی نالاں ہیں۔ حالیہ عرصے میں دیکھا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جانے پہچانے کرکٹرز نے نیشنل کنٹریکٹس مسترد کردیے ہیں ان میں ویسٹ انڈیزکے سنیل نارائن، کیرون پولارڈ، آندرے رسل وغیرہ شامل ہیں جبکہ انگلینڈ کے عادل رشید اور الیکس ہیلز نے خود کو صرف سفید گیند کی کرکٹ تک محدود کرلیا ہے۔ دیکھا جارہا ہے کہ چند بڑے نامور کرکٹرز بین الاقوامی کرکٹ بالکل نہیں یا بہت کم کھیل رہے ہیں۔ کچھ نے حالیہ برسوں میں ٹی 20 لیگز کیلئے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد بھی کہہ دیا ہے۔ فیکا کے چیف ایگزیکٹو ٹونی آئرش کے مطابق یہ صورت حال ملکی کرکٹ بورڈز کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے، وہ کھلاڑی کی تربیت پر بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی خدمات حاصل رہیں اس کیلئے وہ این او سی جاری نہ کرنے کا اختیار استعمال کرتے ہیں تاہم اس کے برعکس کھلاڑی کنٹریکٹس مسترد کرکے ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ باصلاحیت کھلاڑیوںکا اخراج چند ممالک میں ابھی سے تنائو کا سبب بنتا جارہا ہے، یقینی طور پر عنقریب سب ہی اسے محسوس کریں گے۔