بودھن 12 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ٹی آر ایس پارٹی امیدوار حلقہ پارلیمان ضلع نظام آباد کے کویتا نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میںٹی آر ایس کی حکومت اقتدار میں آتے ہی سب سے پہلے نظام شوگرس فیاکٹری کو حکومت اپنے زیر انتظام لے لی گی انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے دور حکومت میں براعظم ایشیاء کی اس مشہور شکر سازی کے کارخانوں کو خانگی اداروں کے حوالے کردیا گیا تھا اور اس وقت اسمبی بودھن کی نمائندگی کانگریس پارٹی کے قائد مسٹر سدرشن ریڈی کررہے تھے بعدازاں مسٹر ریڈی کو ریاستی کابینہ میں شامل کرلیا گیا ۔ مسٹر ریڈی کی این ایس ایف سے عدم دلچسپی کے باعث سینکڑوں کسانوں اور فیاکٹری ملازمین بے روزگار ہوگئے کویتا نے کہا کہ ضلع نظام آباد میں فی الفور ساڑھے چار لاکھ ایکر اراضی کو سنچائی کیلئے پانی سربراہ کیا جارہا ہے لیکن ٹی آر ایس برسر اقتدار آنے کے بعد ضلع نظام آباد کی دس لاکھ زرعی اراضی کو پانی سربراہ کیا جائے گا ۔ انہو ںنے کہا کہ ضلع نظام آباد کی عوام کے ساتھ ہر عام انتخابات کے مواقعوں پر بودھن تا بیدر تک ریلوے لائن کی توسیع کا وعدہ کیا جاتا رہا لیکن سابقہ ارکان پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد اپنے وعدے کی تکمیل میں ناکام رہے کویتا نے کہا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد بودھن تا بیدر ریلوے لائن کی توسیع کیلئے مرکزی بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کیلئے مرکزی حکومت پر دباو ڈالیں گے کویتا نے کہا کہ ٹی آر ایس ایک مقامی پارٹی ہے جبکہ بی جے پی کو ووٹ ڈالنا تلگودیشم پارٹی کو ووٹ دینے کے مماثل ہے۔ ٹی ڈی پی نے لمحہ آخر تک علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام میں خلل ڈالنے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی۔ محترمہ کویتا نے کل سہ پہر حلقہ اسمبلی بودھن کے مواضعات بھردی پور، پنٹاکلاں،اچن پلی ،ناگن پلی کا دورہ کیا اور وہاں منعقد عوامی جلسوں سے مخاطب کیا اس دورہ میں ان کے ساتھ شامل حلقہ اسمبلی بودھن کے امیدوار محمد شکیل عامر نے بھی مخاطب کیا ۔اس موقع پر حلقہ اسمبلی بودھن سابقہ انچارج بی جے پی مسٹر کے پی سرینواس ریڈی اپنے حامیوں کے ساتھ ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ اس موقع پر سابقہ ایم پی پی جی گنگا ریڈی سابقہ چیر مین بلدیہ بودھن محمد غوث الدین، عبدالکریم میور الکٹریکلس، عبدالرزاق ریاستی سکریٹری اقلیتی سیل کے علاوہشیام راو سابقہ سرپنچ اچن پلی سائیلو، کوپرتی سباراو وغیرہ موجود تھے۔