ٹی آر ایس میں گروپ بندیوں میں اضافہ

قاضی پیٹ ۔ 8اگست( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ٹی آر ایس پارٹی کے اقتدار پر آنے کے بعد پارٹی کیڈر میں گروپ بندیوں میں شدید اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ کبھی پروٹوکال کے مسئلہ کو لیکر ٹی آر ایس پارٹی کے قائدین میں افراتفری کا ماحول پیدا ہورہا ہے ۔ تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر وزیر صحت ٹی راجیا ‘ ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ ورنگل کڈیم سری ہری کے بیچ چند دن قبل لفظی جھڑپ کے واقعات پیش آئے اور دونوں گروپوں میں ایم پی ٹی سی ‘ زیڈ پی ٹی سی کی نشست کو لیکر پارٹی آفس میں ہاتھا پائی ہونے کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں ۔ حال ہی میں ٹی آر ایس پارٹی کے ارکان اسمبلی ہنمکنڈہ ڈی ونئے بھاسکر اور ٹی راجیا کے بیچ مزید گروپ بندیوں میں اضافہ ہوا ۔ ورنگل آر ڈی او کے تبادلہ کو لیکر ان دونوں کے بیچ لفظی جھڑپ کے واقعات پیش آئے اور ڈی ونئے بھاسکر نے آر ڈی او کا تبادلہ کروایا اور ان کے پسندیدہ آر ڈی او کو ورنگل کیلئے منتخب کیا ۔ کل شام اس گروپ بندیوں میں مزید اضافہ ہوا ۔ جئے شنکر پارک کے نام سے آنجہانی پروفیسر جئے شنکر کے مجسمہ کے نقاب کشائی جلسہ میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا ۔ جئے شنکر کے مجسمہ کے قریب ڈپٹی سی ایم ٹی راجیا کا نام نہ ہونے کی وجہ سے کڈیم سری ہری اور راجیا کے حامیوں میں نوک جھونک کے واقعات پیش آئے اور ضلع کلکٹر ورنگل جی کشن کے خطاب کو حامیوں نے روک دیا ۔ کچھ دیر بعد ڈی ونئے بھاسکر کے حامیوں نے بھی راجیا کی تقریر کو روک کر احتجاج کیا اور کچھ دیر تک حالات کشیدہ ہوگئے ۔ تلنگانہ ملازمین کے صدر ٹی سبا راؤ نے بھی احتجاج کیا ۔ محبوبہ آباد کے رکن پارلیمنٹ پروفیسر سیتارام نے مداخلت کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا اور کہا کہ آج ہم ایک ایسی شخصیت کے جلسہ میں موجود ہیں جنہوں نے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے اہم کردار ادا کیا تھا ۔ ایسے واقعات پارٹی میں ہوتے ہے اسے نظر انداز کر کے اسے بعد میں سلجھا سکتے ہیں۔