ٹی آر ایس حکومت عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکام

سنگاریڈی 14 اکٹوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق رکن اسمبلی سنگاریڈی ٹی جئے پرکاش ریڈی نے سنگاریڈی ٹرانسکو ایس ای آفس کے روبرو کسانوں کی جانب سے منظم کردہ ایک روزہ ہڑتال کیمپ میں شرکت کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کو شدید نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گذشتہ عام انتخابات میں کے سی آر کے صدر ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے ایسے وعدے کئے جن کو دیکھتے ہوئے عوام ٹی آر ایس کو اقتدار سونپا لیکن اقتدار میںآکر 4 ماہ گذر چکے ہیںایک بھی وعدہ کو ٹی آر ایس حکومت حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے کے سی آر نے اپنے انتخابی منشور میں کہا تھا کہ کسانوں کو 9 گھنٹے برقی سربراہ کی جائے گی لیکن ٹی آر ایس حکومت برقی کی موثر سربراہی میں ناکام ہوچکی ہے عوام اور کسان برقی کٹوتی سے پریشان حال ہوچکے ہیں کیا یہی سنہرا تلنگانہ ہے تلنگانہ کی ترقی اور سرسبز و شاداب تلنگانہ کے قیام کا وعدہ کرتے ہوئے عوام اور کسانوں سے دھوکہ بازی کی ۔ کسانوں کو 4 گھنٹے بھی برقی سربراہ نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے کسانوں کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی کسان خودکشی جیسے انتہائی اقدام بھی کرچکے ہیں لیکن پھر بھی ٹی آر ایس حکومت پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے بار بار کے سی آر نے کہا تھا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ میں عوام کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی آج خود تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کے سی آر کیا کررہے ہیں تلنگانہ کی ترقی کے معاملے میں کے سی آر وزیر اعلی نے ابھی تک کسی بھی ترقیاتی اسکیم کیلئے فنڈس جاری نہیں کئے کسانوں کو ایک لاکھ روپئے تک کے قرضۃ جات کی معافی کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا ۔ جئے پرکاش ریڈی نے الیکٹریسٹی آفس سنگاریڈی کے روبرو مزید ایک اور احتجاجی ہڑتال کیمپ میں شریک کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میدک میں محکمہ ٹرانسکو میںکنٹراکٹ اساس پر کام کرنے والے ورکرس کی تعداد 500 ہے جبکہ کے سی آر وزیراعلی نے انتخابات میں وعدہ کیاتھا کہ برسر اقتدار آتے ہی کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل ملازمت کا درجہ دلوایا جائے گا لیکن اپنے انتخابات وعدہ پر عمل نہ کرتے ہوئے وعدہ خلافی کرتے ہوئے کنٹراکٹ ملازمین کو برطرف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسان اور کنٹراکٹ ملازمین کے مسائل کی فوری یکسوئی کی جائے ورنہ قومی شاہراہوں پر راستہ روکو منظم کیا جائیگا ۔ تین سال تک برقی کی حالت کو ایسی ہی بتاتے ہوئے کے سی آر آرام سے ہیں اور عوام پریشان ہیں آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔