محبوب نگر /18 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مشن کاکتیہ اسکیم ایک اچھی اسکیم ہے ۔ لیکن قیام تلنگانہ کے اندرون 6 ماہ ضلع کے زیر التواء پراجکٹس کی تکمیل کا وعدہ کرنے والے کے سی آر اپنے وعدے سے بے پرواہ ہیں ۔ مستقر محبوب نگر پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ نے ان خیالات کااظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئل ساگر ، بھیما کلواکرتی اور نیٹم پاڈو پراجکٹ اگر بروقت مکمل کرلئے جائیں تو کسانوں کو راحت مل سکتی ہے اور دوسری طرف ضلع سے مزدوروں کے نقل مقام کو روکا جاسکتا ہے ۔ حلقہ گریجویٹس ایم ایل سی کیلئے بی جے پی کے امیدوار رامچندر راؤ کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کیلئے وہ یہاں پہونچے تھے ۔ انہوں نے پرزور انداز زیں کہا کہ اگر بی جے پی کی تائید اور ساتھ نہ ہوتا تو تلنگانہ کی علحدگی ممکن نہیں تھی ۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت کو مدورہ دیا کہ وہ من مانی نہ کرے بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی ریاست کی ترقی کے سلسلہ میں مشاورت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں اپوزیشن کے ارکان کی معطلی مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ انہوں نے پیش قیاس کی کہ 2019 کے انتخابات میں تلنگانہ میں میں بی جے پی ایک طاقت بن کر ابھرے گی ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ ضلع سے 15 تا 20 لاکھ افراد روزگار کیلئے نقل مقام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے تیقن دیا کہ ان کی بھلائی کیلئے اقل ترین اجرت مقرر کرنے کا مرکز پر دباؤ ڈالا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ عنقریب ضلع میں صنعت کاریڈر کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ ریاستی حکومت جو قوانین بنارہی ہے اس سے نوجوان ششو پنچ میں مبتلا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 8 ویں تا ڈگری پڑھنے والے طلباء کو روزگار فراہم کرنے کیلئے تلنگانہ میں 5 ٹریننگ سنٹرس نیشنل کینڈٹ سرویس سیکٹر کے تحت قائم کئے جائیں گے ۔ پریس کانفرنس میں ایم ایل سی امیدوار رامچندر راؤ کے علاوہ بی جے پی و تلگودیشم قائدین موجود تھے ۔