ٹیپو سلطان آزادیٔ ہند کا ایک وفادار حکمران

 

حلیم بابر
ہندوستان پر مسلم حکمرانوں نے برسا برس حکومت کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اس طویل مدت میں کبھی بھی دیگر مذاہب سے تعصب یا دشمنی نہیں رکھی۔ ان کی حکومت کے اصولوں میں رواداری کی بڑی اہمیت تھی ۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر مذہب کا احترام کیا۔ مغل دورِ حکومت میں شہنشاہ بابر سے اورنگ زیب عالمگیر نے اپنی رعایا کیلئے رواداری کے ساتھ ایسے ایسے کارنامے انجام دیئے ہیں جو لائق تحسین ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ انہوں نے ہندوؤں کو بھی اعلیٰ مراتب و عہدوں سے نوازا جس کی تاریخ گواہ ہے۔ اگر یہ حکمراںجن کا سارے ہندوستان پر دبدبہ تھا ، چاہتے تو تلوار کے زور پر سب مذاہب کے لوگوں کو داخل اسلام کرلیتے مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔ ہندوستان کی آزادی کیلئے مسلمانوں نے بھی اپنی جانوں کو قربان کردیا جن میں علمائے کرام ، دانشورانِ ملت ، خواتین و بچے شامل تھے ۔ آج بھی ان کی روحیں تڑپ کر کہتی ہوں گی کہ ہم کو کیوں غدار کہا جاتا ہے ۔ اسلام کی تعلیمات میں وفاداری کی بڑی اہمیت ہے جو انسانیت کا ایک ایسا وصف ہے جس کو دنیا جھک کر سلام کرتی ہے۔ اور یہ وصف مسلمانوں کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے ۔ جس کے باعث تمام حکمران وقت نے ہمیشہ اپنے وطن عزیز کو دل و جان سے عزیز رکھا اور آزادیٔ ہند میں اپنی جانیں دے کر یہ ثابت کردیا کہ مسلمان ہمیشہ وفادار ہوتا ہے غدار نہیں۔ ایسے ہی مسلم حکمرانوں میں ٹیپو سلطان حکمراں میسور کا نام بھی آتا ہے جس نے جذبہ وفاداری اور حب الوطنی کے پیش نظر اپنی جان کی قربانی دی اور یہ ثابت کردیا کہ وطن عزیز ہندوستان کیلئے مسلمان اپنی جان بھی دے سکتا ہے ۔ ٹیپو سلطان نے رواداری کے پیش نظر ہندوؤں کو بھی اعلیٰ عہدوں اور جاگیرات سے نوازا۔ مگر افسوس بلکہ لعنت ہے ان فرقہ پرستوں کی آواز پر جو ایسے انصاف پسند و سیکولر حکمراں پر بہتان تراشی کرتے ہیں اور دشمنی اور عداوت کے جذبات ابھارتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نے دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کیا جو تاریخ کے بالکل برعکس ہے ۔

اس طرح سے ایسے احباب کی شرپسندی سے ہندوستان تباہی کے دہانے پر آرہا ہے ۔ آج ضرورت ہے کہ ایسے شرپسندوں کی سرکوبی کی جائے جو تاریخ کو غلط بتاتے ہوئے اپنی شرپسندی کو نیلام کر رہے ہیں جو انتہائی نچلی سطح کی حرکت ہے۔ صحافتی اطلاعات کے مطابق حکومت کرناٹک سالِ حال بھی 10 نومبر کو ٹیپو جینتی منعقد کر رہی ہے جس میں ہر سال کی طرح ٹیپو سلطان شہید کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ۔ اس طرح کے اعلان سے فرقہ پرست اور مسلم دشمنوں کو ایک دھکہ لگا ۔ چنانچہ اس بات کا علم ہوا کہ مرکزی وزیر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک مکتوب کے ذریعہ اس تقریب کو شرمناک قرار دیا اور شرکت کرنے سے انکار کردیا۔ اس کا یہ جھوٹا بیان کہ ٹیپو سلطان متعصب پسند و ہندو دشمن تھے ۔ قابل مذمت اور لائق سرزنش ہے۔ اس کے رد عمل میں چیف منسٹر کرناٹک سدا رامیا نے اپنے بیان میں ٹیپو سلطان کی شخصیت پر کئے گئے ریمارکس کی تردید کی اور کہا کہ ٹیپو سلطان مجاہد آزادی انگریزوں کے خلاف بڑی دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ جہاں ہندو مذہب سے وابستہ قائدین نے ٹیپو سلطان کے خلاف حقائق کے خلاف الزامات عائد کئے ہیں وہیں ان ہی کے مذہب سے وابستہ سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے ٹیپو سلطان کی تائید میں اظہار خیال کیا ہے ۔ سندھ ہندو مہاسی کے صدر شیام داس گڈوانی کے سپوت بھگوان داس گڈوانی نے بڑی عظمت و احترام میں کہا کہ ’’ٹیپو سلطان چاہے کچھ بھی ہو متعصب اور فرقہ پرست نہیں تھا ۔ وہ قوم کا سچا سپوت تھا ۔ وہ قومی شہید تھا اور اسے اس مرتبہ کے لحاظ سے یاد کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹیپو حکومت کے 19 جنرلوں میں 10 ہندو جرنل تھے اور 13 وزیروں میں 7 ہندو تھے ‘‘۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس کے عظیم لیڈر آر ملکھانی کے حوالے سے السٹرڈ وبکلی 1995 ء میں شائع شدہ میگزین میں یوں حقیقت کو پیش کیا کہ ’’اگر وہ چاہتا تو انگریزوں کے آگے سر جھکاکر ایک حکمراں کی حیثیت سے رہ سکتا تھا اور اگر ایسا ہوتا تو اس کے پڑ پوتے کلکتہ کی سڑکوں پر رکشہ نہیںچلاتے مگر ٹیپو سلطان نے غلامی اور بے عزتی پر موت کو ترجیح دی ۔ وہ ا ٹھارویں صدی کے حکمرانوں میں تنہا ایسا شخص جو غیر ملکی طاقت سے جنگ کرتا ہوا کام آیا ، آج ہندوستان کے شہری اس شیر کو سلام کئے بغیر نہیں رہ سکتے ‘‘۔ اس کے علاوہ ٹیپو سلطان کی تعمیر کردہ مندر (وینکٹ رمنا) کے پجاری سوامی جی ششادی بھٹ جنہیں بنگلور میں ٹیپو سلطان ایوارڈ سے 2016 ء میں نوازا گیا تھا ۔ اپنے تشکرانہ کلمات کا اظہار کسی تحفظات ، ذہنی اور بلا خوف و خطر یوں کیا ہے ۔

’’آج کے فرقہ پرست سیاسی لیڈران ، قلمکار ٹیپو سلطان کی اصل تاریخ کو چھپا کر جھوٹی اور بے بنیاد توہین آمیز ، گستاخانہ تاریخ کو رقم کر کے ٹیپو سلطان کی شان و عظمت اور ان کی وطن سے محبت ، وفاداری ، عظیم قربانیوں اور انجام دیئے گئے ترقیاتی کاموں پر پردہ ڈالتے ہیں ۔ تاریخ ہندوستان ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔ ٹیپو سلطان نے 155 مندروں کی تعمیر کی شرنگری شاردھا منھ، حکیم تجید ، یشو رامندر، بنگلور روڈ پر گولی پورہ مہاشیو مندر وینکٹیشورا مندر کے علاوہ ایسے بے شمار منادر اور تاریخی عمارتیں آج بھی زندہ مثال پیش کرتی ہیں‘‘۔اس طرح سے مندرجہ بالا نامور ہندو قائدین کی حق پسندانہ تحریروں کے بعد ٹیپو سلطان پر الزام تراشی کرنا سراسر جھوٹ اور بہتان پر مشتمل ہے۔ حرف آخر : دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی کے مصداق حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ آج ہندوستان جو ہمارا ایک عظیم ملک ہے ، اس کی حفاطت ہمارا ، ہم سب مذاہب کے عوام کا فرض ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آزادی کیلئے شہید ہونے والوں پر جھوٹے الزامات سے ہندوستان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اور وہ چیخ چیخ کر درد بھری آوازیں کہہ اٹھے گا کہ ’’اے میرے دامن میں رہنے والو میری دل شکنی نہ کرو ، ورنہ ممکن ہے میں ٹوٹ کر بکھر جاؤں اور یہ جان لو کہ میرا زوال تم سب کا زوال ہے ‘‘۔ بہرحال اب بھی وقت ہے کہ فرقہ پرست جماعتیں وسیع النظری کے ساتھ ٹیپو سلطان پر بہتان تراشی نہ کریں ورنہ یہ عداوتیں ، نفرتیں اور مذ ہبی جنگیں ہم سب کا شیرازہ بکھر دیں گی۔