میرپور۔6مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی ٹیم میں ان کے مقام پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ جب وہ ٹیم پر بوجھ بنیں گے اس سے قبل ہی وہ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے ۔ پاکستانی ٹیم جو کہ ایشیاء کپ میں خطابی مقابلہ سری لنکا کے خلاف کھیلے گی اس سے قبل یہاں میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ جب مجھے محسوس ہوگا کہ میں ٹیم پر بوجھ بن رہا ہوں اس سے قبل ہی میں بین الاقوامی کرکٹ سے سبکدوش ہوجاؤں گا اور کسی کو بولنے کا موقع نہیں دوں گا ۔ آفریدی کے بموجب جب تک وہ فٹ اور ٹیم کیلئے بہتر مظاہرہ کررہے ہیں ان کی کرکٹ جاری رہے گی ۔ آفریدی نے مزید کہاکہ وہ اپنے مظاہروں کے ذریعہ ٹیم کیلئے کچھ دینا چاہتے ہیں اور وہ اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ ہر وقت بیٹنگ کے ذریعہ ٹیم کی کامیابی میںاہم رول ادا نہیں کیا جاسکتا ہے
لہذا وہ اپنی بولنگ پر بھی توجہ مرکوز کررہے ہیں تاکہ بولنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں ٹیم کیلئے بہتر مظاہرہ کرسکیں۔ 34سالہ آفریدی کے مظاہروں میں عدم استقلال کی وجہ سے ان پر تنقیدیں کی جاتی رہی ہے لیکن انہوں نے ایشیاء کپ میں ہندوستان کے خلاف اہم موقع پر تیز رفتار 34رنز اور بنگلہ دیش کے خلاف 25 گیندوں میں 59رنز کی غیرمعمولی اننگز کھیلتے ہوئے پاکستان کو فائنل میں پہنچایا ہے ۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے خلاف غیر معمولی مظاہروں کی اہمیت کے ضمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے آفریدی نے کہا کہ میں ان دو مظاہروں کو زیادہ اہمیت کا حامل بھی نہیں بنانا چاہتا کیونکہ میں اس سطح پر کئی مرتبہ مظاہرے کرچکا ہوں لیکن یہ دو مظاہرے میرے لئے اس لئے اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ انفرادی طور پر میرے لئے اور مجموعی طور پر ملک کیلئے بہتر مظاہرے ہیں ۔
آفریدی نے کوچ کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں بین الاقوامی سطح پر گذشتہ کئی برسوں سے ٹیم کی نمائندگی کررہا ہوں لہذا مجھے اس سطح پر کوچ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ‘ لہذا میں خود کا ہی کوچ ہوں ۔ کوچ کی ضرورت نہیں ہے لیکن صحیح افراد کی حمایت اور ان کی جانب سے ملنے والا اعتماد ضروری ہے ۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے موجودہ معاون عملہ کے تعلق سے کئے جانے والے استفسار کا جواب دیتے ہوئے آفریدی نے کہاکہ گذشتہ کی بہ نسبت موجودہ عملہ کرکٹ کی بہتر سمجھ بوجھ رکھتا ہے اور کھلاڑیوں کو مثبت ذہن کی تیاری میں تعاون بھی کرتاہے ۔اشون کے خلاف آخری اوورس میں دو چھکے لگاتے ہوئے آفریدی نے 1986ء میں ہندوستان کے خلاف شارجہ میں چیتن شرما کے خلاف جاوید میاں داد کے چھکے کی یاد تازہ کی ۔