کراچی ۔ 26 ڈسمبر(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق اسٹار کرکٹر محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کی بہتری کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ٹوئنٹی20 تفریح کاکھیل ہے، کوئی کھلاڑی ایک چھکا مارے تو عوام خوش ہوتی ہے اور اگر کھلاڑی ایک رنز بنائے تو عوام برا مانتی ہے‘ٹوئنٹی20 کے باعث پاکستان کرکٹ کو نقصان ہورہا ہے۔ یوسف نے کہا ہے کہ وہ ٹوئنٹی20 کے خلاف نہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے گھریلو ٹورنمنٹ کے سواء ٹوئنٹی20 نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ٹوئنٹی20 کھیلنے والا جب کھلاڑی ونڈے اور ٹسٹ میں مشکل میں پڑجاتا ہے۔ جب تک چالیس پچاس اوورز کا میچ نہیں کھیلیں گے اننگز کو نہیں سمجھ سکتے۔ وہ سکھر میونسپل اسٹیڈیم میں شہید ذوالفقار علی بھٹی کرکٹ ٹورنمنٹ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ٹسٹ اورٹوئنٹی20 سیریز برابر کرنا ایک مایوس کن نتیجہ ہے جبکہ ونڈے سیریز ہارنا اس سے بھی ناقص مظاہرہ رہا۔ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی،
پاکستان کوارٹر فائنل تک پہنچ جائے گا تاہم اس کے بعد سخت محنت کرنا ہوگی۔ پاکستان میں کرکٹ اگر تباہی سے دوچار ہے تو اس کے قصور وار عوام ،میڈیا، کھلاڑی اور کرکٹ چلانے والے ہم سب لوگ ہیں، جب تک ہم پسند ناپسند کو ختم نہیں کریں گے ہم کرکٹ کو بہتر نہیں کرسکتے۔ کھلاڑیوں کی سبکدوشی پر کیا کہوں ورلڈکپ کے بعد تو ویسے ہی کئی کھلاڑی دور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شعبہ جاتی کرکٹ بھی مکمل طورپر بحال ہونی چاہئے اور ضلعی سطحوں پر بھی کرکٹ کو فروغ دینا چاہئے۔ یہاں کرکٹ چلانے والے ہر روز کوئی نئی تبدیلی لاتے ہیں، برسوں سے موجود لوگوں کو ہٹ جانا چاہیے۔ پاکستان میں جاوید میانداد، انضمام الحق ، ظہیرعباس ، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر ایسے لوگ ہیں جن کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں اور یہ لوگ پاکستان کرکٹ کی خدمت کرنا بھی چاہتے ہیں انہیں کوئی مالی لالچ نہیں ہے اور اگر کرکٹ بورڈ انہیں کچھ دے بھی دیتا ہے تو یہ ان کا حق ہے۔