میرپور ۔ 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اس حقیقت سے بخوبی واقف کہ ٹورنمنٹ میں ایک اور ناکامی ان کیلئے حالات مشکل ترین کردے گی، ویسٹ انڈیز کل یہاں میزبان بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے جانے والے مقابلہ میں کرو یا مرو صورتحال کا سامنا کرے گی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹوئنٹی 20 ورلڈ 2014ء کی مہم کا غلط سمت آغاز ہوا ہے کیونکہ اسے ٹورنمنٹ کے اپنے افتتاحی مقابلہ میں ہندوستان کے خلاف شکست برداشت کرنی پڑی۔ مشفق الرحیم اور ان کے ساتھی کھلاڑیوں کے بس میں ہیکہ وہ کریس گیل اور ان کے ساتھی کھلاڑیوں کے خلاف بہتر مظاہرہ کرسکے اور جنون کی حد تک کرکٹ کو پسند کئے جانے والے ملک بنگلہ دیش کے کرکٹ شائقین بھی خواہاں ہیکہ ان کے شیر دفاعی چمپیئن ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی حاصل کرے۔ بنگلہ دیش کیلئے اصل مسئلہ اس کے مظاہروں میں عدم استقلال ہے کیونکہ ایک مقابلہ میں بنگلہ دیش کے مظاہرے انتہائی شاندار ہوتے ہیں تو اگلے ہی مقابلہ میں مشفق الرحیم کی ٹیم کے مظاہرے غیرمعمولی ہوجاتے ہیں۔ باوجود اس کے میزبان ٹیم کے کپتان مشفق الرحیم پرعزم ہیکہ ان کی ٹیم متوازن بیٹنگ شعبہ کی حامل ویسٹ انڈیز کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جیسا کہ ٹوئنٹی 20 میں دو مرتبہ بنگلہ دیش نے اپنی حریف کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے۔ اس ضمن میں اظہارخیال کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے کپتان مشفق الرحیم نے کہا ہیکہ ویسٹ انڈیز کو ہم نے دو مرتبہ ٹوئنٹی 20 میں شکست دی ہی ہے
اور ابھی بھی ہم حریف ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مشفق الرحیم نے مقابلہ کے آغاز سے قبل منعقد ہونے والی پریس کانفرنس سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف مقابلہ میں کامیابی کیلئے ہم پرعزم ہیں۔ بنگلہ دیش کو حالانکہ بہتر رن ریٹ کی وجہ سے ٹورنمنٹ کی 10 ٹیموں میں رسائی کا موقع حاصل ہوا ہے حالانکہ کوالیفائنگ راونڈ کے مقابلہ میں اسے ہانگ کانگ جیسی کمزور ٹیم کے خلاف بھی شکست برداشت کرنی پڑی ہے۔ ٹیم کے فاسٹ بولر مشرف مرتضیٰ کی فٹنس کے متعلق کپتان کا کہنا ہیکہ مشرف کو ہم جانتے ہیں کہ اگر وہ 10 فیصد بھی فٹ رہے تو مقابلہ میں بہتر مظاہرہ کیلئے صدفیصد کوشش کرتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف بنگلہ دیش کی کامیابی کا زیادہ تر انحصار میزبان ٹیم کے اسپنرس شکیب الحسن، عبدالرزاق اور آف بریک بولر محموداللہ کے مظاہروں پر ہوگا کیونکہ سست وکٹ پر یہ بولر ٹیم کو بہتر مظاہرہ کے ذریعہ کامیابی دلوا سکتے ہیں۔ ہندوستانی اسپنرس کے بہتر مظاہروں سے یقینا میزبان ٹیم کے اسپن بولروں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ شکیب الحسن ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کی بہتر معلومات رکھتے ہیں کیونکہ وہ کریبین پریمیئر لیگ میں شرکت کرچکے ہیں۔
اسی طرح کریس گیل کو بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے مزاج سے اچھی واقفیت ہے، کیونکہ انہوں نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے دو سیزنس میں دو مختلف ٹیموں کی نمائندگی کی ہے۔ بنگلہ دیش کا بیٹنگ شعبہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس نے ہانگ کانگ جیسی ٹیم کے خلاف صرف 108 رنز اسکور کئے ہیں۔ ناقص مظاہرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مشفق الرحیم نے کہا کہ ٹیم کے اجلاس میں ہم نے بہتر اسٹروکس کے انتخاب پر زیادہ توجہ دی ہے اور امید ہیکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف اس طرح کی غلطی نہیں دہرائی جائے گی۔