ویراٹ کوہلی بین الاقوامی کرکٹ کے تمام ریکارڈ توڑ سکتے ہیں

فتح اللہ ( بنگلہ دیش ) 16 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے افسانوی بلے باز ظہیر عباس ان سابق کرکٹرس کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جن کا احساس ہے کہ ہندوستان کے بلے باز ویراٹ کوہلی ایک عظیم مستقبل رکھتے ہیں۔ ظہیر عباس نے کہا کہ ویراٹ کوہلی ایسا بلے باز ہے جو انٹرنیشنل کرکٹ میں تمام ریکارڈز کو توڑ دے گا ۔ ہندوستانی بیٹنگ لائین اپ میں تبدیلیاں ہوئی ہیں اور اب وہ کافی مستحکم ہوگئی ہے ۔ ظہیر عباس نے یہاں ٹیم کی ٹریننگ کے بعد ہندوستانی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس بھی کچھ بہترین بلے باز ہیں لیکن ابھی ٹیم اپنی تنظْم جدید میں لگی ہوی ہے ۔

سابق پاکستانی بلے باز ظہیر عباس اپنے وقتوں کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے نوجوان اوپنر احمد شہزاد کی ستائش کی اور کہا کہ احمد شہزاد ایک با صلاحیت بلے باز ہے اور وہ آنے والے دنوں میں ایک بہترین کھلاڑی بن کر ابھریں گے ۔ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین 21 مارچ کو ہونے والے مقابلہ کے تعلق سے سوال کے جواب میں کہا کہ کپتان مہیندر سنگھ دھونی کی زخم سے واپسی یقینی طور پر ہندوستانی ٹیم کیلئے حوصلہ افزا رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ کے دوران دھونی ٹیم میں شامل نہیں تھے ۔ اب وہ واپس ہوچکے ہیں ایسے میں اس سے ہندوستانی ٹیم مزید طاقتور ہوگی تاہم ہم ( پاکستانی ٹیم ) اچھی ہندوستانی ٹیم کو بھی شکست دے چکی ہے ۔

کئی افراد سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم اسکور کا تعاقب کرنے میں کمزور ہے لیکن ایشیا کپ کے دوران کھلاڑیوں نے ظاہر کردیا کہ وہ ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے خلاف اچھے اسکور کا تعاقب کامیابی سے کیا ہے ۔ ظہیر عباس فی الحال پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پاکستانی ٹیم با حوصلہ ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں میں اعتماد ہے ۔ مشکل اور دباؤ کی صورتحال میں بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم جیتیں گے ۔ یہ انداز اچھی بات ہے ۔ ظہیر عباس نے کہا کہ کرکٹ میں حالیہ وقتوں میں زبردست تبدیلیاں آئی ہیں اور کھلاڑیوں کو چاہئے کہ وہ ان تبدیلیوں اور تکنیک کو اختیار کریں اور اس سے ہم آہنگ ہوجائیں ۔انہوں نے کہا کہ انہیں یاد ہے کہ وہ سنیل گواسکر کے ساتھ ایک میچ دیکھ رہے تھے ۔

ایک بیٹسمن کے بلے سے گیند ٹکرائی اور سلپ کے اوپر سے چار رن کیلئے چلی گئی ۔ اس وقت گواسکر نے کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں کوئی غلط شاٹ کھیلنے پر کوچ میدان میں دوڑنے کی سزا دیتا تھا لیکن آج کے دور میں ایک چوکا ‘ چوکا ہی ہے اور شائقین اس کو پسند کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگ چاہتے ہیں اور وہ ٹوئنٹی 20 کرکٹ کو پسند کرنے لگے ہیں۔ ظہیر عباس نے واضح کیا کہ 70 کی دہائی میں کرکٹ میں تبدیلیاں شروع ہوئی تھیں۔ کھلاڑیوں کو رنگین ڈریس اور سفید گیند متعارف ہوچکی تھی ۔ انہوں نے انگلینڈ میں کھیلا ہے جہاں جان پلئیر لیگ اچھی رہی تھی اور یہ مقابلے 40 اوورس کے ہوتے تھے ۔ اب یہ بدل کر ٹوئنٹی 20 ہوگئے ہیں۔ بیٹنگ تکنیک بھی کافی بدل گئی ہے لیکن چونکہ ہر چیز وقت کے ساتھ بدلتی ہے اس لئے وہ حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا جو دور تھا وہ گذر چکا ہے اور اب نوجوان نسل کا وقت ہے ۔