ویدک مسئلہ ،حکومت کا ذمہ داری سے فرار ناقابلِ قبول

ممبئی۔ 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مودی حکومت پر صحافی وید پرتاپ ویدک کی 26 نومبر 2008ء کے ممبئی دہشت گرد حملوں کی سازش تیار کرنے والے حافظ سعید سے ملاقات پر کارروائی کرنے کے لئے دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے بی جے پی کی حلیف سیاسی پارٹی ’’شیوسینا‘‘ نے آج کہا کہ مرکز اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرسکتا۔ صرف یہ کہنا کہ حکومت کو اس ملاقات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کافی نہیں ہوگا۔ اگر کانگریس حکومت ہوتی اور کوئی صحافی حافظ سعید یا داؤد ابراہیم سے ملا ہوتا تو بی جے پی ، حکومت کی مذمت کرنے سے نہ چُوکتی ۔ شیوسینا کے ترجمان ’’سامنا‘‘ کے ایک اداریہ میں آج یہی تحریر کیا گیا ہے۔ اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ آج ہم برسراقتدار ہیں ، اس لئے صرف یہ کہنا کہ اس شخص سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے، قطعی کافی نہیں ہوگا۔ اس مسئلہ کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے۔ کوئی ہندو ۔ مسلم تعصب نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ یہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے۔ اگر صحافی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی تو کل کوئی بھی جاکر داؤد ابراہیم ، ٹائیگر میمن اور حافظ سعید کے ساتھ بریانی سے لطف اندوز ہوگا۔ مراٹھی روزنامہ ’’سامنا‘‘ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے ’’اچھا‘‘ آغاز کیا تھا لیکن اسے مسائل کا سامنا کرنا چاہئے کیونکہ ثبوت موجود نہیں ہے۔حکومت صرف وزیر خارجہ کے بیان پر اکتفا کررہی ہے جس میں پارلیمنٹ میں صحافی کی حافظ سعید سے ملاقات کی مذمت کی گئی ہے۔ حافظ سعید سے ملاقات کرنا جو ہمارے ملک کے دشمن ہیں ، ایک جرم ہے اور حکومت کو صحافی کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ آخر ویدک کو کس نے اختیار دیا تھا کہ ہندوستان کی خودمختاری اور یکجہتی کے بارے میں بیان دے۔ اداریہ میں سوال کیا گیا ہے کہ ہمیں حکومت ِ پاکستان اور آئی ایس آئی کے رویہ پر حیرت ہے ، آخر حکومت ِ پاکستان جو عام ہندوستانیوں کو ویزا دینے سے انکار کردیتی ہے، ویدک کے سلسلے میں اتنی فراخدل کب سے ہوگی۔ ویدک ایک فری لانس جرنلسٹ ہیں ۔ انہوں نے لاہور میں مقیم حافظ سعید سے جو جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ ہیں جو دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کی مادر تنظیم ہے اور 26 نومبر 2008ء کو ممبئی میں دہشت گرد حملوں کی سازش تیار کرنے والے کلیدی سازشی کی حیثیت سے ان کیخلاف مقدمہ عدالت میں زیردوران ہے، ملاقات کی تھی جبکہ وہ صحافیوں اور سیاست دانوں کے ایک گروپ میں شامل ہوکر پاکستان کا دورہ کررہے تھے۔ ان صحافیوں اور سیاست دانوں کو پاکستان کے ادارہ برائے امن کی تحقیق نے پاکستان کے دورہ کی دعوت دی تھی۔ شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے مراٹھی روزنامہ ’’سامنا‘‘ کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔