ہجومی تشدد … سپریم کورٹ نے حکومتوں کو جگایا
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی پر فرقہ پرستوں کی نظریں
رشیدالدین
ہجومی تشدد پر ریاستوں اور مرکز کی بے حسی پر آخر کار سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔ گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ابھی تھما نہیں تھا کہ بچوں کے اغواء کی افواہوں پر شک کی بنیاد پر برسر عام تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات نے امن و ضبط کو خطرہ پیدا کردیا ہے۔ جس ملک کی تہذیب نے جانوروں کو اذیت دینے کی اجازت نہیں وہاں نہتے اور بے قصوروں کو مار مار کر ہلاک کرنا سماج میں بڑھتے مجرمانہ اور تشدد کے رجحان کی علامت ہے۔ کسی بھی سماج کیلئے اس طرح کا رجحان خطرناک ، نقصان دہ اور نراج کی کیفیت پیدا کرنے والا ہے۔ مسلمانوں سے نفرت کے جذبہ کو پروان چڑھانے کیلئے جو طاقتیں ذمہ دار ہیں ، وہ بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ لو جہاد اور پھر گاؤ رکھشا کے نام پر معصومین کے ساتھ جس بربریت کا مظاہرہ کیا گیا، وہ غیر انسانی سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کے مترادف ہے۔ اترپردیش کے دادری میں اخلاق کی ہلاکت سے شروع ہوا یہ سلسلہ پتہ نہیں کہاں جاکر رکے ۔ فرقہ پرست طاقتوں نے گاؤ دہشت گردوں کے بھیس میں بے قصوروں کے خون کی جو ہولی کھیلی ہے ، اس پر ریاستوں نے کارروائی کے بجائے تماش بین بن کر بالواسطہ حوصلہ افزائی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہجومی تشدد کو لیکر عوام کے حوصلے بلند ہوگئے۔ گاؤ رکھشا کے نام پر تشدد ہو کہ اغواء کی افواہوں پر ہلاکتیں بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں ان واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا خطرناک رجحان ملک کو لاء قانونیت کے ماحول میں پہنچا دے گا ۔
اس رجحان میں اضافہ کیلئے ریاستی حکومتیں ذمہ دار ہیں جنہوں نے کارروائی کے بجائے بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اخلاق ، پہلو خاں اور جنید کے قاتلوں کو عبرتناک سزائیں دی جاتی تو ہجومی اشرار کے حوصلے بلند نہ ہوتے۔ 2014 ء عام انتخابات سے قبل جارحانہ فرقہ پرست تنظیموں نے ہجومی تشدد کے تجربات شروع کردیئے تھے۔ 2010 ء سے ان واقعات کا آغاز ہوا لیکن 2015 ء میں شدت پیدا ہوگئی کیونکہ اشرار کو سرکاری اور سیاسی سرپرستی حاصل ہونے لگی۔ گاؤ رکھشا کے نام پر ہجومی تشدد نے اترپردیش ، راجستھان ، جھارکھنڈ ، آسام اور ہریانہ زیادہ متاثر ہوئے۔ ان کے علاوہ ہماچل پردیش ، گجرات ، جموں و کشمیر ، دہلی اور مغربی بنگال میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آئے ۔ تازہ واقعہ اترپردیش میں قاسم کی ہلاکت کا ہے جنہیں ظالموں نے پانی تک نہیں دیا اور پولیس انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے حملہ آوروں کے ساتھ مل کر قاسم کی موت کا تماشہ دیکھتی رہی۔ بچوں کے اغواء کی افواہوں پر ہلاکتوں میں اضافہ نے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا ہے ۔ عوام حقیقی معنوں میں کسی کو مدد کرنے گھبرا رہے ہیں۔ حکومتوں کی ناکامی پر سپریم کورٹ نے مداخلت کی اور ریاستوں اور مرکز کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی ۔ مرکز کو ہدایت دی گئی کہ تشدد پر قابو پانے کیلئے ریاستوں کو اڈوائزری جاری کرے۔ جب کبھی عاملہ اور مقننہ نے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بھلا دیا تو عدلیہ نے قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا۔ ملک میں عدلیہ آزاد ہے۔ دستور اور قانون کے تحفظ کے سلسلہ میں عوام کی امیدیں اس سے وابستہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے ریاستوں کی ناکامی کو بے نقاب کیا جس کے بعد مرکز نے تمام ریاستوں کے لئے اڈوائزری جاری کی۔ سپریم کورٹ کے سخت موقف کے بعد مرکز کو ہوش آیا۔ سپریم کورٹ کے موقف سے اندازہ ہورہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ سخت آئے گا ۔ عدالت نے واضح کردیا کہ ہجومی تشدد میں مرنے والوں کو کسی ایک مذہب سے جوڑ کر نہ دیکھا جائے ۔ یہ خالص انسانیت اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے اور لاء اینڈ آرڈر ریاستوں کا اختیار ہے۔ مرکز اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتا کیونکہ دستور نے ریاستوں میں حالات بگڑنے پر مرکز کو کارروائی کا اختیار دیا ہے۔ اگر امن و ضبط کی برقراری میں ریاست ناکام ہو تو صدر راج کا نفاذ مرکز کی ذمہ داری ہے لیکن مرکز کیلئے دشواری یہ ہے کہ ہجومی تشدد کے زیادہ واقعات بی جے پی ریاستوں میں پیش آئے ہیں۔ مرکز نے جو اڈوائزی جاری کی ہے، اس میں گاؤ رکھشا کے نام پر ہلاکتوں کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ مرکزی حکومت اپنی تائیدی جارحانہ فرقہ پرست تنظیموں کو ناراض کرنا نہیں چاہتی۔ مرکز کیلئے گاؤ رکھشا تشدد کا ذکر کرنا اس لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقاریر میں ہمیشہ درج فہرست اقوام قبائل ، پسماندہ طبقات اور ہر کسی کا ذکر کیا لیکن ان کی زبان سے کبھی لفظ مسلمان نہیں نکلا۔ ہجومی تشدد پر اکسانے اور نفرت پھیلانے میں سوشیل میڈیا کا اہم رول رہا۔ افواہوں ، غیر مصدقہ اطلاعات کو عام کرنے اور بھڑکاؤ بیانات کی ترسیل کے ذریعہ تشدد کیلئے راہ ہموار کی گئی ۔ مرکز نے سوشیل میڈیا کے اداروں کو غیر ذمہ دارانہ پیامات عام کرنے کے خلاف انتباہ دیا ہے ۔ یہ کام تو مرکز کو اس وقت کرنا چاہئے تھا جب فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کو گاؤ رکھشا کے نام پر ہلاک کرتے ہوئے اس کے دلخراش ویڈیوز سوشیل میڈیا میں عام کردیا۔ اس وقت تو مرکز کو انسانیت کا بھی خیال نہیں آیا لیکن آج سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد سوشیل میڈیا پر کنٹرول کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوشیل میڈیا سے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ کئی اہم شخصیتوں کو ایک سے زائد مرتبہ سوشیل میڈیا میں دنیا سے رخصت کردیا گیا جبکہ وہ بقید حیات ہیں۔ ہجومی تشدد کے سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی کا رویہ بھی ذمہ دارانہ نہیں رہا۔ گاؤ رکھشا کے نام پر بے قصوروں کی موت ہوتی رہی لیکن وزیراعظم نے لب کشائی نہیں کی ۔ افواہوں کے درمیان اغواء اور قتل کے بعض حقیقی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ حکومت کو چوکسی کی ضرورت ہے۔ اگر ہجومی تشدد پر قابو نہیں پایا گیا تو وسط مدتی انتخابات کے منصوبہ پر پانی پھر جائے گا ۔ حکومت لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر عوام کا کس طرح سامنا کرے گی؟
مرکزی حکومت نے کسانوں اور عام آدمی کیلئے پیاکیج کا اعلان کرتے ہوئے وسط مدتی انتخابات کی تیاریوں کا اشارہ دیا ہے۔ کسی بھی پارٹی کی کامیابی میں کسانوں اور عام آدمی کا اہم رول ہوتا ہے۔ کسانوں کو خوش کرنے کیلئے مودی حکومت نے اقل ترین امدادی قیمت میں اضافہ کا اعلان کیا ۔ اس کے علاوہ عام آدمی کے لئے ہیلتھ انشورنس اسکیم متعارف کی جارہی ہے ۔ یہ دونوں انتخابی حربے اگر کامیاب ہوں تو نریندر مودی کو یقینی طور پر فائدہ ہوگا۔ انتخابات سے قبل تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر نے بھی کسانوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ کرناٹک حکومت نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس طرح ہر کسی کو ووٹ بینک کی فکر ہے ۔ اترپردیش اور راجستھان میں وسط مدتی انتخابات کی شکست کے منفی اثرات کو زائل کرنے کیلئے ابھی سے خوش کن اسکیمات متعارف کی جارہی ہے ۔ آر ایس ایس دیہی علاقوں میں سرگرم ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں خوابوں کی جنت میں گھوم رہی ہے۔ کانگریس ہو یا کوئی اور پارٹی اس نے ابھی تک انتخابی تیاریوں کا آغاز نہیں کیا ہے ۔ اگر یہ پارٹیاں بیدار نہ ہوں تو پھر اپوزیشن ہی ان کا مقدر بن جائے گا ۔ دوسری طرف علیگڑھ مسلم یونیورسٹی پر فرقہ پرست طاقتوں نے بری نظریں ڈالنی شروع کردی ہیں۔ یونیورسٹی میں ایس سی، ایس ٹی تحفظات کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور حکومت کے کمیشن نے یونیورسٹی سے وضاحت طلب کی ہے۔ ملک میں اقلیتوں کی حالت دلتوں سے ابتر ہے۔ اس بارے میں کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر بھی ملک کے واحد مسلم ادارے میں تحفظات کا مطالبہ تعصب اور مسلم دشمنی کی واضح مثال ہے۔ مسلمانوں کے قائم کردہ ادارہ پر فرقہ پرستوں کی بری نظریں کیا رنگ لائیں گی ، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمانوں کے لئے تعلیم اور روزگار میں مزید مواقع پیدا کئے جاتے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف مہم کو بی جے پی اور یوگی ادتیہ ناتھ حکومت کی تائید حاصل ہے۔ علیگڑھ یونیورسٹی میں ایس سی ، ایس ٹی کو تحفظات کا مطالبہ کرنے والے کیا بنارس ہندو یونیورسٹی میں مسلمانوں کو تحفظات دینے تیار ہوں گے ؟ بنار ہندو یونیورسٹی میں کتنے مسلم طلبہ کو داخلہ دیا گیا ، اس کی تفصیلات پہلے منظر عام پر لائی جائیں۔ مسلم اداروں سے دشمنی کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیمی طور پر پسماندہ رکھنے کی سازش ہے۔ گزشتہ 70 برسوں میں کسی نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر سوال نہیں اٹھایا۔ اب اچانک یونیورسٹی کو نشانہ بنانا ہندوؤں کو مشتعل کرنے کی سازش ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں فائدہ ہو۔ اترپردیش میں دینی مدارس پر یوگی ادتیہ ناتھ کی پابندیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ حکومت نے دینی مدارس کے طلبہ کیلئے ڈریس کوڈ کی تجویز رکھی تھی جسے مسلمانوں کے احتجاج کے بعد واپس لے لیا گیا ۔ اگر بی جے پی حکومت کا بس چلے تو وہ دینی مدارس میں سوریا نمسکار ، وندے ماترم پڑھنے اور نصاب میں ہندو مذہبی کتابوں کو شامل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد یوگی ادتیہ ناتھ اپنی کرسی بچانے کیلئے خود کو زیادہ ہندو وادی ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ مسلمانوں کے بعض مفاد پرست اور موقع پرست عناصر ان کی تائید کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ ہر دور میں مسلمانوں کے درمیان اس طرح کے میر جعفر اور میر صادق موجود رہے لیکن اس سے مسلمانوں کے اتحاد پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے ؎
آپ ہم صرف لاشیں اٹھاتے رہے
وہ ہمیں مارکر مسکراتے رہے