وڈرا اراضی سودا کی تحقیقات میں کوئی سیاسی انتقام نہیں ‘ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا بیان

نئی دہلی 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام )مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ بی جے پی سیاسی انتقام پر عمل پیرا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہریانہ نے رابرٹ وڈرا کے اراضی سودا مقدمہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یہ تیقن دے سکتا ہوں کہ جہاں تک ہماری حکومت کا تعلق ہے ہم انتقام کی سیاست پر عمل پیرا نہیں ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ایک کو ساتھ لیں اور ہر ایک کی ترقی کو یقینی بنائیں ۔ حکومت ہریانہ نے کل ایک کمیشن تشکیل دیا ہے تا کہ بعض شخصیات کو لائسنس جاری کرنے کی تحقیقات کی جائیں ۔ جن شخصیات کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی اُن میں رابرٹ وڈرا کی کمپنی بھی شامل ہیں جو تجارتی کالونیاں سیکٹر 83 گڑ گاوں میں تعمیر کررہی ہیں جو متصلہ علاقہ ہے ۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت ہریانہ چاہتی ہے کہ تحقیقات کی جائیں اور اراضی سودوں کے بارے میں جو گذشتہ کانگریس حکومت کے دور میں کئے گئے ہیں تفتیش کی جائیں ۔

اس میں سیاسی انتقام کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے ۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ چاہے وہ وڈرا ہوں یا کوئی اور کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے ۔ سوال اراضی سودوں میں دھوکہ دہی کا ہے پوری قوم اس بارے میں جانتی ہے۔ عاجلانہ بنیادوں پر سابق کانگریس حکومت کی جانب سے بے قصور قرار دیئے جانے کے بعد اگر آج حکومت ہریانہ چاہتی ہے کہ دوبارہ تحقیقات کی جائیں اور اراضی سودوں کی آڑ میں لوٹ مار کی دوبارہ تفتیش کی جائے تو اس میں سیاسی انتقام کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے ۔ مبینہ طور پر رابرٹ وڈرا کو سابق حکومت ہریانہ نے کوڑیوں کے مول اراضی فروخت کی تھی اور جب اس مسئلہ پر تنازعہ پیدا ہوا تھا تو اس اراضی سودے کی تحقیقات کروائی گئیں جس میں رابرٹ وڈرا کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے انہیں بے قصور قرار دے دیا گیا ۔ تاہم بی جے پی کا اسی وقت سے الزام ہے کہ مرکز کی کانگریس زیر قیادت حکومت نے عجلت میں درست تحقیقات کروائے بغیر وڈرا کو بے قصور قرار دے دیا۔