وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر

تریپورہ کا نشہ یو پی میں اتر گیا
یوگی کو گھر میں ہار … 2019 ء کیلئے نوشتہ دیوار

رشیدالدین
وہ نشہ ہی کیا جو سر چڑھ کر نہ بولے۔ چاہے وہ اقتدار کا نشہ ہو یا دولت کا ۔ کسی کو شہرت تو کسی کو حسن و جمال حتیٰ زہد و تقویٰ کا بھی نشہ ہوتا ہے لیکن جب یہ نشہ اترتا ہے تو اپنی اصلیت اور مقام کا پتہ دیتا ہے۔ نشہ چاہے کسی چیز کا ہو ، وہ انسان کیلئے خسارہ کا سبب ہوتا ہے۔ آج ہم اقتدار کے نشہ کی بات کر رہے ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں میں حالیہ کامیابیوں کے بعد بی جے پی پر جیت کا نشہ چھا گیا تھا۔ قائدین خوشی سے اس قدر بے قابو تھے جیسے وہ فلمی نغمہ گنگنارہے ہوں۔ ’’آج کل پاؤں زمین پر نہیں پڑتے میرے‘‘ تریپورہ ، ناگالینڈ اور میگھالیہ نتائج کے بعد بی جے پی کو یقین ہوچکا تھا کہ مودی کی قیادت میں وجئے رتھ کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ دوسری طرف یوگی ادتیہ ناتھ خود کو اترپردیش کے سیاہ سفید کا مالک سمجھنے لگے تھے۔ کامیابی کے غرور میں تغلقی فیصلوں کا آغاز ہوچکا تھا۔ وہ اس حقیقت کو بھول گئے کہ وہ اترپردیش کے عوام کی تائید سے نہیں بلکہ اپوزیشن ووٹ کی تقسیم کے سبب کرسی اقتدار تک پہنچے ہیں۔ جو حقیقی معنوں میں یوگی ، سادھو، سادھوی اور سنت ہوتے ہیں ، ان کا سیاست سے کیا تعلق لیکن اترپردیش میں یوگی، سادھو اور سادھوی بھی سیاسی اکھاڑہ میں زور آزمائی کر رہے ہیں۔ یوگی ادتیہ ناتھ 19 مارچ کو اپنے اقتدار کا ایک سال مکمل کرنے والے ہیں لیکن ایک سالہ جشن سے عین قبل اترپردیش کے رائے دہندوں نے رنگ میں بھنگ کا کام کیا اور اقتدار و کامیابی کے نشہ کو اتاردیا ۔ یوگی اترپردیش میں ناقابل تسخیر لیڈر کے طور پر ابھرے تھے کیونکہ انہیں مودی کی سرپرستی حاصل ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ کو کامیابی کی ضمانت مانتے ہوئے مختلف ریاستوں کی انتخابی مہم میں اتارا گیا لیکن جس طرح رات کے بعد سورج کا طلوع ہونا اور تاریکی کے بعد روشنی ضروری ہے ، ٹھیک اسی طرح اترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ عام طور پر ضمنی انتخابات میں برسر اقتدار پارٹی کے مواقع اور جیت کے امکانات بہتر ہوتے ہیں۔ انتخابی مہم پر برسر اقتدار پارٹی کی بالادستی ہوتی ہے لیکن اترپردیش میں ادتیہ ناتھ اور ان کے ڈپٹی چیف منسٹر اپنی خالی کردہ لوک سبھا نشستوں کو بچانے میں ناکام ہوگئے۔ جس لوک سبھا حلقہ گورکھپور سے ادتیہ ناتھ پانچ مرتبہ مسلسل کامیابی حاصل کرچکے ہیں ، وہاں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریا اپنی لوک سبھا نشست پھولپور کو نہیں بچاپائے ۔ دونوں لوک سبھا حلقوں پر سماج وادی پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ یو پی میں اقتدار سے محرومی کے ایک سال میں دو لوک سبھا حلقوں کو بی جے پی سے چھیننا سماج وادی پارٹی کیلئے کسی کارنامہ سے کم نہیں۔ سماج وادی پارٹی کی کامیابی سے زیادہ عوامی ناراضگی نے بی جے پی کو شکست دی۔ اترپردیش کی عوام جملہ بازی حکومت سے عاجز آچکے ہیں۔ تریپورہ میں 25 سالہ کمیونسٹ دور حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے بی جے پی نے سی پی ایم کے قلعہ پر زعفرانی پرچم لہرایا جبکہ اترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ کا قلعہ اکھلیش یادو نے فتح کرلیا ۔ بہار میں نتیش کمار کو جھٹکہ لگا جنہوں نے آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ محاذ بناکر سیکولر ووٹ سے حکومت تشکیل دینے کے بعد بی جے پی کا دامن تھام لیا۔ اس طرح بہار میں جنتادل یونائٹیڈ اور بی جے پی اتحاد کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ اترپردیش کی دو اور بہار کی ایک جملہ تین لوک سبھا حلقوں پر بی جے پی کی شکست پر سوشیل میڈیا میں یوں تو مختلف انداز سے تبصرے کئے جارہے ہیں لیکن ایک تبصرہ کافی دلچسپ تھا جس میں کہا گیا کہ طلاق ثلاثہ کے نام پر جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ٹھیک اسی طرح بی جے پی کو عوام نے ’’شکست ثلاثہ‘‘ دی ہے۔ حال ہی میں راجستھان ، مدھیہ پردیش اور مغربی بنگال کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو مایوسی ہوئی تھی ۔

راجستھان میں کانگریس نے لوک سبھا کی نشستیں چھین لی جبکہ مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کانگریس سے دو اسمبلی حلقوں کو چھیننے میں ناکام رہے۔ دونوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں اور ضمنی چناؤ کے نتائج بی جے پی کیلئے نوشتہ دیوار کی طرح ہیں۔ اب جبکہ لوک سبھا کے عام انتخابات کیلئے محض ایک سال باقی رہ چکا ہے، ریاستوں کے ضمنی چناؤ کے نتائج مودی۔امیت شاہ جوڑی کی نیند حرام کرچکے ہیں۔ گجرات ، ہماچل پردیش اور پھر شمال مشرقی ریاستوں میں کامیابی کے بعد مبصرین کا خیال تھا کہ مودی سرکار وسط مدتی چناؤ کی کی تیاری کرے گی تاکہ عوامی ناراضگی میں اضافہ سے قبل وجئے رتھ سے دوبارہ دہلی کے اقتدار تک پہنچ جائیں لیکن مدھیہ پردیش ، راجستھان اور پھر تازہ ترین اترپردیش کے نتائج سے وسط مدتی چناؤ کے امکانات ختم ہوچکے ہیں۔ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ بی جے پی کے لئے خودکشی ثابت ہوگا۔ اسے محض اتفاق کہا جائے یا پھر حکمت عملی کہ نریندر مودی اور امیت شاہ جوڑی نے اترپردیش کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا اور یوگی ادتیہ ناتھ پر ساری ذمہ داری ڈال دی گئی۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی 0جے پی اعلیٰ قیادت میں حکومت کے ایک سال کی تکمیل کے موقع پر یوگی کی صلاحیت اور مقبولیت کا امتحان لیا ہے ۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر دونوں اپنے لوک سبھا حلقوں میں بی جے پی کو کامیابی دلانے میں ناکام ثابت ہوئے جس کے بعد سے پارٹی کے بعض قائدین نے کھل کر یوگی پر تنقید کی۔ بی جے پی کے اسٹار کیمپینرس نریندر مودی اور امیت شاہ اگر اترپردیش میں مہم چلاتے تو یقیناً فرق پڑجاتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ادتیہ ناتھ جس طرح اوور کانفیڈنس میں خود کو مودی اور امیت شاہ کی طرح مقبول ظاہر کر رہے تھے، انہیں اترپردیش کے نتائج سے مقام بتادیا گیا۔ ادتیہ ناتھ اترپردیش میں بی جے پی کی مہم کی کمان سنبھالنا چاہتے تھے لیکن اب شاید یہ ممکن نہیں ہوگا۔ نریندر مودی اور امیت شاہ بی جے پی کے لئے میدان میں اتریں گے اور کانگریس کیلئے ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں رہے گا۔
اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کو مایاوتی نے لوک سبھا کی دو نشستیں تحفہ میں پیش کی ہیں۔ اگر دونوں پارٹیوں میں اتحاد نہ ہوتا تو اسمبلی انتخابات کی طرح ووٹ کی تقسیم کا بی جے پی کو فائدہ پہنچتا۔ مایاوتی نے بروقت اور سیکولر طاقتوں کے احیاء کے حق میں سماج وادی کی تائید کا فیصلہ کرتے ہوئے ملک کی تمام سیکولر جماعتوں کو نئی راہ دکھائی ہے۔ اگر 2017 ء میں دونوں پارٹیاں متحدہ مقابلہ کرتیں تو یو پی اسمبلی میں بی جے پی تیسرے مقام پر ہوتی ۔ دیر آید درست آید کے مصداق بی ایس پی۔ایس پی نے رائے دہندوں کے جذبات کا احترام کیا ہے۔ اترپردیش کے رائے دہندے یہی چاہتے ہیں کہ سیکولر طاقتیں متحد رہیں تاکہ جارحانہ فرقہ پرست عناصر سے نمٹا جاسکے۔ ظاہر ہے کہ جب ہاتھی کا پیر کنول پر پڑجائے تو کیا ہوگا کہنے کی ضرورت نہیں۔ 2019 ء لوک سبھا انتخابات میں اترپردیش کا یہ اتحاد بی جے پی کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ ایس پی اور بی ایس پی کے ساتھ کانگریس اور اجیت سنگھ کو بھی محاذ میں شامل ہوکر ضمنی چناؤ کی تاریخ کو 2019 ء میں دہرانا ہوگا۔ بی جے پی اور نریندر مودی کا جادو اب ٹوٹنے لگا ہے ۔ جس طرح ہر عروج کو زوال ہے اور انتہا پر پہنچنے کے بعد آغاز اور ابتداء پر واپسی قدرت کا نظام ہے۔ اسی طرح بی جے پی اپنی انتہا کو پہنچ چکی اور اب ابتداء کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اترپردیش کے کامیاب تجربہ کو قومی سطح پر دہرانے کی ضرورت ہے۔

کانگریس اور دیگر جماعتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ سی پی ایم اپنی ہٹ دھرمی اور انانیت ترک کرے ۔ جب تک تمام غیر بی جے پی طاقتیں متحد نہیں ہوں گی ، اس وقت تک بی جے پی اقتدار کا خاتمہ ممکن نہیں۔ 2014 ء میں محض 31 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے بی جے پی دہلی کی گدی پر قابض ہوچکی تھی ۔ 69 فیصد مخالف بی جے پی ووٹ تقسیم ہوگئے۔ اگر یہ ووٹ متحد ہوجائیں تو بی جے پی سنگل ڈجٹ میں پہنچ جائے گی۔ کانگریس کے بغیر تیسرے محاذ کے قیام کی تیاریاں دراصل بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہیں۔ کانگریس کے بغیر مضبوط سیکولر محاذ کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ اب جبکہ کرناٹک میں انتخابات قریب ہیں، کانگریس اور جنتادل سیکولر کو متحدہ طور پر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اگر کرناٹک میں سیکولر ووٹ تقسیم ہوتے ہیں تو راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے بعض اقدامات نے رائے دہی میں دھاندلیوں کے امکانات کو کم کردیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اترپردیش کے ضمنی انتخابات میں رائے دہی کا فیصد کم رہا ۔ الیکشن کمیشن نے حالیہ عرصہ میں ایک نئی مشین کو متعارف کیا ہے جس کے ذریعہ رائے دہندہ یہ ضمانت حاصل کرسکتا ہے کہ اس کا ووٹ کسی اور پارٹی کے کھاتے میں نہیں گیا۔ اس مشین کے استعمال سے انتخابی بے قاعدگیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ 2019 ء میں یہ مشینیں بی جے پی کے لئے بھی مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔ ان مشینوں کے استعمال کے بعد ضمنی انتخابات کے جو نتائج منظر عام پر آئے ہیں اس کے بعد اپوزیشن کو ووٹنگ مشینوں کے بارے میں اپنے شبہات کا ازالہ کرنا چاہئے ۔ دوسری طرف پارلیمنٹ میں تعطل برقرار ہے۔ بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ میں ایک دن بھی کارروائی نہیں چلائی جاسکی۔ تمام اپوزیشن جماعتیں مختلف موضوعات پر مباحث کا مطالبہ کر رہی ہے۔ فینانس بل مباحث کے بغیر منظور کرلیا گیا ۔ حکومت کے رویہ سے محسوس ہوتا ہے کہ اسے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ضرورت نہیں اور وہ اپنی من مانی جاری رکھے گی ۔ ہزاروں کروڑ کے بینک اسکام پر مباحث کا مطالبہ واجبی ہے۔ اگر حکومت مباحث سے فرار اختیار کرے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ ملک کی دولت لوٹ کر فرار ہونے والوں کو بچانا اہم مقصد ہے۔ جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی غزل کا مشہور شعر حالات پر صادق آتا ہے ؎
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
اس کی عادت بھی آدمی سی ہے