وزیراعظم مودی چاہئے یا افراتفری، ارون جیٹلی کا سوال

مہا گٹھ بندھن حریفوں کا منتشر گروپ، قیادت کا فقدان، راہول گاندھی ناکام لیڈر
نئی دہلی 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہاکہ مہا گٹھ بندھن حریفوں کا خود کو نقصان پہنچانے والا مخلوط ہے اور عام انتخابات میں ووٹروں کے سامنے دو ہی متبادل ہوں گے، مودی یا پھر افراتفری۔ وزیراعظم نریندر مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت دوسری میعاد کے لئے کوشاں ہے جبکہ 900 ملین افراد لوک سبھا انتخابات میں 11 اپریل سے ووٹ ڈالنے کی توقع ہے۔ ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو کی جائے گی۔ کئی غیر بی جے پی پارٹیوں جیسے کانگریس، ایس پی، بی ایس پی اور ٹی ایم سی نے مل کر عظیم اتحاد بنایا ہے تاکہ مودی کی این ڈی اے حکومت کا آنے والے انتخابات میں مقابلہ کیا جاسکے۔ جیٹلی نے بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کے خلاف مخلوط میں شامل پارٹیوں میں جھگڑوں کو اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ مہا گٹھ بندھن کی جو باتیں ہورہی تھیں وہ کئی متضاد گٹھ بندھنوں کا امتزاج ثابت ہورہا ہے۔ یہ حریفوں کا خود کو نقصان پہنچانے والا مخلوط ہے۔ اپنے بلاگ میں جیٹلی نے تحریر کیاکہ اپوزیشن کیمپ میں قیادت کا مسئلہ قطعی معمہ ہے۔ صدر کانگریس راہول گاندھی ناکافی لیڈر ہیں۔ اُنھوں نے کوشش کی۔ اُنھیں آزمایا گیا اور وہ ناکام ہوگئے۔ مسائل کو سمجھنے سے اُن کا قاصر ہونا تشویشناک ہے۔ وہ منتشر مخلوط کے لیڈر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سینئر بی جے پی لیڈر نے مزید کہاکہ اپوزیشن اتحاد غیر واضح اور قطعی کمزور ہے۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی معقول تعداد میں نشستیں جیتنے کے قابل نہیں ہے۔ اِس اتحاد کا مستحکم مرکز بھی نہیں ہوگا۔ دوسری طرف جیٹلی نے کہاکہ این ڈی اے میں قیادت کے کوئی مسائل نہیں۔ این ڈی اے فتح کی صورت میں نریندر مودی ہی وزیراعظم بنیں گے۔