وزیراعظم آسٹریلیا کے ائمہ مساجد سے اپیل

ملبورن ۔ 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم آسٹریلیا اسکاٹ ماریسن نے آئمہ مساجد سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے یہ خواہش کی کہ ملک میں بڑھتی ہوئی اسلامی انتہاء پسندی پر قابو پانے وہ (آئمہ مساجد) اپنے رول کو مزید مؤثرانداز میں ادا کریں کیونکہ صرف ایک ہفتہ قبل ہی ایک صومالی نژاد انتہاء پسند نے چاقو سے حملے کئے تھے جس کا نامحسن خلیف شیر علی تھا۔ اس نے تین راہگیروں کو چاقو گھونپا اور مصروف ترین علاقہ بُرکے اسٹریٹ میں پولیس افسران پر بھی حملے کئے۔ پولیس نے اس پر قابو حاصل کرتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ 30 سالہ حملہ آور جو ایک یوٹیلیٹی ویان چلا رہا تھا جس میں گیس کی بوتلیں بھری ہوئی تھیں۔ اس نے ان بوتلوں کو نذرآتش کردیا اور لوگوں پر چاقو سے حملے کرنے لگا۔ مسٹر موریسن نے حملہ آور کے ارکان خاندان کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ وہ دماغی عدم توازن کا شکار ہے اور کہا کہ یہ محض ایک ’’عذرلنگ‘‘ ہے۔ میں مانتا ہوں کہ لوگ دماغی عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں لیکن اس معاملہ میں یہ تھیوری میرے لئے ناقابل قبول ہے۔