ناسک / لکھنو 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کی جانب سے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کے نام کو اس کی ’’بے چینی کا اظہار‘‘قرار دیتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر و مرکزی وزیر زراعت شرد پوار نے آج کہا کہ وہ لوگ مسائل پر انتخابی مقابلہ نہیں کررہے ہیں بلکہ صرف نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی بعض انتخابات ترقیاتی مسئلہ یا مخصوص مسائل کی بنیاد پر لڑتی ہے لیکن بی جے پی عام انتخابات نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے کیلئے لڑ رہی ہے اس سے اس کی بے چینی ظاہر ہوتی ہے وہ گھوٹی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ ’’ملک کے بیشتر ‘‘ فرقہ وارانہ فسادات گجرات میں ہوئے۔ جب کوئی شخص جو عوام کا نمائندہ ہو کم فاصلے سے آگ لگاتا ہے تو مودی نے اتنی اخلاقی جراء ت بھی ظاہر نہیں کی کہ مہلوک کے ارکان خاندان سے ملاقات کر کے ان سے تعزیت کرتے وہ واضح طور پر سابق رکن پارلیمنٹ کانگرس احسان جعفری کی گجرات فسادات میں زندہ جلا دینے کی بات کررہے تھے
انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات ملک کیلئے اہم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ 10 سال میں صدر کانگریس سونیا گاندھی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کی ترقی کی سطح میں اضافہ کیا ہے ۔ لکھنو سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ بی جے پی کے بعض سینئر قائدین وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی سے ناراض ہیں کہا کہ ملک اُن (مودی ) پر کیسے بھروسہ کرسکتا ہے جب کہ خود ان کے اپنے قائدین کو بھروسہ نہیں ہے ۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک مانو سنگھوی نے کہا کہ بی جے پی قائد اوما بھارتی کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مودی’’ وکاس پرش ‘‘( مرد ترقی ) نہیں بلکہ ’’ویناش پُرش ‘‘ ( مرد تباہی) ہے
اور تسلیم کیا کہ گجرات میں دہشت گردی کا ماحول پایا جاتا ہے حالانکہ اوما بھارتی نے اس ٹیپ کو پرانا قرار دیا ہے تاہم انہوں نے اپنے بیان کی تردید نہیں کی ۔ ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ جب اڈوانی مرلی منوہر جوشی ،لعل جی ٹنڈن ،کالراج مشرا اور اوما بھارتی جیسے قائدین مودی پر بھروسہ نہیں کرتے تو ملک کو ان پر بھروسہ کرنا مشکل ہوگا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی تحت کی عدالت کے تبصرہ برائے ایس آئی ٹی کا استحصال کررہے ہیں۔ ایس آئی ٹی نے گجرات فسادات میں مودی کو بے قصور قرار دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا ہے ۔ سنگھوی نے کہا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے اس معاملہ پر ہنوز زیر التواء ہیں۔